سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی
خدمت میں حاضر ہوا تو کیا دیکھتا ہوں کہ آنحضرت ﷺ کھجور کی چٹائی پر لیٹے ہوئے ہیں آپ کے اور اُس
کے درمیان کوئی بستر بھی نہیں ہے آپ کے پہلو پر چٹائی کے نشان پڑ گئے ہیں اور آپ چمڑے کے ایک
تکیہ پر ٹیک لگائے ہوئے ہیں اس میں بھری ہوئی چیز کھجور کی چھال تھی، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ!
آپ اللہ سے دعا فرمائیے کہ وہ آپ کی امت پر فراخی و کشادگی کردیں کیونکہ فارس و روم پر فراخی اور خوشحالی کی
گئی ہے، حالانکہ وہ اللہ کی عبادت بھی نہیں کرتے، تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا: اے ابن الخطاب! کیا تم
اسی خیال میں ہو؟ یہ وہ قوم ہے کہ ان کو ان کی نعمتیں دنیاوی زندگی میں ہی دے دی گئیں۔
اور ایک روایت میں ہے: کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ اُن کے
لئے دنیا ہو اور ہمارے لئے آخرت۔ (متفق علیہ)۔
سیدنا زید بن اسلم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے: ایک روز سیدنا عمر
رضی اللہ تعالیٰ عنہ پانی طلب فرمائے، تو آپ کے پاس شہد ملا ہوا پانی لایا گیا، تو آپ نے کہا: کہ یہ
بہت اچھا تو ہے لیکن میں سنتا ہوں کہ اللہ عزوجل نے لوگوں پر اُن کے نفسانی خواہشات کو عیب1 قرار دیا اور
فرمایا: ﴿أَذْهَبْتُمْ طَيِّبَاتِكُمْ فِي حَيَاتِكُمُ الدُّنْيَا وَاسْتَمْتَعْتُمْ بِهَا﴾ (46۔الاحقاف، آیت:20) ”تم اپنے
حصہ کی نعمتیں اپنی دنیوی زندگی میں لے چکے اور اُن سے فائدہ اٹھا چکے“، لہذا مجھے اس بات کا اندیشہ ہے کہ
ہماری نیکیاں ہمیں (دنیا ہی میں) جلد دے دی جا رہی ہوں، پھر آپ نے اُس کو نوش نہیں فرمایا۔(رزین)۔
سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی
خدمت میں بھوک کی شکایت کی، پس ہم نے اپنے پیٹ پر باندھے ہوئے پتھر2 سے کپڑا ہٹایا تو رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے شکم مبارک پر باندھے ہوئے دو پتھروں سے کپڑا ہٹا کر دکھایا۔(ترمذی)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 2371 (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
Lifted our garments to show a stone, etc.
(1) His statement: "Lifted our garments to show a stone, etc.": It is said that tying a stone to the stomach prevents air from entering empty intestines and aids in strengthening the back. Others say it prevents the stomach from sagging and the intestines from dropping, making movement easier. When hunger intensifies, two stones are tied, as the Messenger of Allah (ﷺ) did, being the hungriest and most disciplined among them. Al-Muzhir said: This is a practice of those who engage in spiritual discipline. Ibn Hajar said: This was a custom of the Arabs or the people of Medina. The author of Al-Azhar said: Some say these were stones in Medina called "Al-Mashbi‘ah," which, when tied to the stomach during hunger, had a cooling effect that alleviated hunger and heat. Others say it is like saying, "Tie a stone to your heart," meaning to be patient. Thus, the Prophet (ﷺ) commanded patience through his words and state. Allah knows best. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
قوله
(۱) قوله: فرفعنا عن بطوننا عن حجر حجر إلخ : قيل : فائدة شد الحجر على البطن أن لا يدخل النفخ في الأمعاء الخالية، وأن نفس شد الأمعاء إعانة على شد الصلب. وقيل: إنما ربط الحجر على البطن لئلا يسترخي البطن وينزل المعى فيشق التحرك، فإذا ربط حجرا على بطنه يشتد بطنه وظهره، فيسهل عليه الحركة، وإذا اشتد الجوع يربط حجرين، فكان رسول الله ﷺ أكثرهم جوعا وأكثرهم رياضة، فربط على بطنه حجرين، قال المظهر: وهذا عادة أصحاب الرياضة. وقال ابن حجر الله هذا عادة العرب أو أهل المدينة. وقال صاحب الأزهار»: في ربط الحجر على البطن أقوال، أحدها: أن ذلك أحجار بالمدينة تسمى المشبعة كانوا إذا جاع أحدهم يربط على بطنه حجرا من ذلك، وكان الله تعالى خلق فيه برودة تسكن الجوع والحرارة. وقال بعضهم : يقال لمن يؤمر بالصبر: اربط على قلبك حجرا، فكأنه أمر بالصبر وأمر أمته بالصبر قالاً وحالا ، والله تعالى أعلم. كذا في «المرقاة».
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ (ایک مرتبہ) صحابہ کو
بھوک لگی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُنہیں ایک ایک کھجور عطا فرمایا۔(ترمذی)۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے فرمایا: جو آدمی 1 بھوکا ہو جائے یا ضرورت مند ہو جائے اور وہ اس کو لوگوں سے چھپائے رکھے تو اللہ بزرگ
و برتر پر یہ حق لازم ہے کہ وہ اُسے ایک سال کی حلال روزی عطا فرمائے گا۔(بیہقی شعب الایمان)۔
(1) His statement: "Whoever goes hungry, etc.": This refers to hunger that allows for patience and concealment. Otherwise, scholars have stated that if someone dies of hunger without asking or eating permissible food, even carrion, they die disobedient. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
قوله
(۱) قوله: من جاع إلخ والمراد بالجوع جوع يتصور معه الصبر، ويجوز فيه الكتمان، وإلا فقد صرح العلماء بأن الشخص إذا مات جوعا ولم يسأل، أو لم يأكل ولو من الميتة يموت عاصيا. كذا في «المرقاة».
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہرگز تم کسی بدکار پر کسی نعمت کی وجہ سے رشک نہ کرنا، کیونکہ تم نہیں
جانتے کہ وہ اپنی موت کے بعد کیا چیز پانے والا ہے، دیکھو! اللہ کے پاس اس کے لئے ایک
قاتل ہے جو کبھی نہیں مرے گا یعنی آگ۔(شرح السنہ)۔
Commentary and footnotes (1)
Note 1
(1) His statement: "Reproaching" means censuring. (As stated in Al-Mirqat)