اردو
سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی
خدمت میں حاضر ہوا تو کیا دیکھتا ہوں کہ آنحضرت ﷺ کھجور کی چٹائی پر لیٹے ہوئے ہیں آپ کے اور اُس
کے درمیان کوئی بستر بھی نہیں ہے آپ کے پہلو پر چٹائی کے نشان پڑ گئے ہیں اور آپ چمڑے کے ایک
تکیہ پر ٹیک لگائے ہوئے ہیں اس میں بھری ہوئی چیز کھجور کی چھال تھی، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ!
آپ اللہ سے دعا فرمائیے کہ وہ آپ کی امت پر فراخی و کشادگی کردیں کیونکہ فارس و روم پر فراخی اور خوشحالی کی
گئی ہے، حالانکہ وہ اللہ کی عبادت بھی نہیں کرتے، تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا: اے ابن الخطاب! کیا تم
اسی خیال میں ہو؟ یہ وہ قوم ہے کہ ان کو ان کی نعمتیں دنیاوی زندگی میں ہی دے دی گئیں۔
اور ایک روایت میں ہے: کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ اُن کے
لئے دنیا ہو اور ہمارے لئے آخرت۔ (متفق علیہ)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 1479a (unverified) 94% confidence
- Candidate: Sahih al-Bukhari 4913 (unverified) 88% confidence · Validation similarity: 0.551
Confidence and text similarity are not editorial verification.