Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer · Chapter 3

(بعض نمازوں کو تاخیر کر کے مستحب وقت میں اور بعض نمازوں کو جلدی کر کے

63 narrations · In source reading order

Hadith 811

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 913
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ نمازِ فجر روشنی پھیلنے پر پڑھو کیوں کہ یہ بہت بڑے اجر کا باعث ہے۔ (اس کی روایت ترمذی نے ابوداؤد اور دارمی نے کی ہے اور ترمذی نے کہا ہے کہ رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث حسن صحیح ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 154 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 424 (unverified) 97% confidence · Validation similarity: 0.527
  • Candidate: Sunan al-Nasa'i 548 (unverified) 88% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 812

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 914
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ نمازِ فجر روشنی میں ادا کرو کیوں کہ یہ بڑے اجر کا باعث ہے۔ (اس کی روایت طبرانی نے الکبیر میں کی ہے۔)

Hadith 813

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 915
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ نمازِ فجر سپیدی پھیلنے پر ادا کرو اس سے تمہارے گناہ بخشے جائیں گے۔ (اس کی روایت دیلمی نے کی ہے۔)

Hadith 814

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 916
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بلال رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ بلال رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اے بلال (رضی اللہ عنہ)! صبح کی نماز سپیدی پھیلنے پر پڑھو، یہ تمہارے لئے خیر ہے۔ (اس کی روایت طبرانی نے الکبیر میں کی ہے۔)

Hadith 815

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 917
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو فجر کی نماز روشنی پھیلنے پر ادا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی قبر کو اور اس کے دل کو روشن کر دیتے ہیں اور اس کی نماز قبول فرما لیتے ہیں۔ (اس کی روایت دیلمی نے کی ہے۔)

Hadith 816

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 918
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میری امت فطرت اسلام یعنی اسلام کی اصلی حالت پر اس وقت تک قائم رہے گی جب تک وہ فجر کی نماز روشنی پھیلنے پر ادا کرتی رہے۔ (اس کی روایت بزار نے کی ہے اور طبرانی نے بھی الاوسط میں کی ہے۔)

Hadith 817

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 919
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ نماز صبح کو اس قدر روشنی پھیلنے پر ادا کرو کہ لوگ اپنے تیروں کے نشانوں کو دیکھ سکیں۔ (اس کی روایت طیالسی نے کی ہے۔)

Hadith 818

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 920
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ صبح کی نماز ادا کرنے میں اس قدر روشنی آنے دو کہ لوگ اپنے تیروں کے نشانوں کو دیکھ سکیں۔ (اس کی روایت طبرانی نے الکبیر میں کی ہے۔)

Hadith 819

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 921
عبداللہ بن محمد بن عقیل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نمازِ فجر میں اس کے نام کی طرح تاخیر فرماتے تھے۔ (فجر کے معنی یہ ہیں کہ تاریکی پھٹ کر سپیدی پھیلنے لگے۔) (اس کی روایت طحاوی نے سندِ صحیح کے ساتھ کی ہے۔)

[Narrated by Al-Tahawi with an authentic chain]

Hadith 820

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 922
ابراہیم نخعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کا اتفاق کسی چیز پر اس طرح نہیں ہوا جیسا کہ نمازِ فجر کے خوب روشنی میں ادا کرنے پر ہوا ہے۔ (اس کی روایت طحاوی نے کی ہے۔)
Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: مذکورہ بالا حدیثوں سے ثابت ہوتا ہے کہ نمازِ فجر اسفار یعنی سپیدی میں ادا کی جائے اس بارے میں یہ واضح رہے کہ نمازِ فجر کے ادا کرنے میں اس قدر تاخیر نہ ہو کہ طلوع آفتاب کا تنگ ہونے لگے بلکہ نمازِ فجر کو اسفار یعنی ایسی سپیدی میں ادا کرنا مستحب ہے کہ بہ ترتیل کم و بیش چالیس آیتوں کے ساتھ نماز ختم ہونے پر اگر نماز میں فساد ظاہر ہو تو دوسری مرتبہ نمازِ فجر کا اعادہ اسی طرح کیا جا سکے جیسے کہ پہلی مرتبہ ادا کیا تھا۔ (ملتقی الابحر)۔

Hadith 821

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 923
ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ ہمیشہ ہر نماز اس کے مستحب وقت پر ادا فرمایا کرتے تھے (البتہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ نے حج کے موقع پر دو نمازیں مغرب اور فجر ان کے مستحب وقت سے ہٹا کر اس طرح ادا فرمائی ہیں کہ مزدلفہ میں نمازِ مغرب کو (اس کے مستحب وقت سے ہٹا کر) عشاء کے ساتھ ادا فرمایا اور (اسی طرح) نمازِ فجر کو اس کے مستحب وقت (اسفار) سے ہٹا کر غلس یعنی تاریکی میں ادا فرمائی۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 1289a (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 822

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 924
ابو اسحاق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں عبدالرحمن بن یزید رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ حج کو تشریف لائے مجھے علقمہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ ساتھ رہتا رہوں مزدلفہ کی رات (جب دسویں ذی الحجہ کی) صبح صادق طلوع ہونے لگی تو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا کہ اقامت کہو! میں نے عرض کیا: اے ابو عبدالرحمن (رضی اللہ عنہ)! میں نے کبھی آپ کو اس طرح تاریکی میں نماز فجر ادا کرتے نہیں دیکھا ہے۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی اس دن کی نماز فجر کو اس جگہ ایسے وقت ہی ادا فرمایا کرتے تھے۔ پھر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ دو نمازیں ہیں جو اپنے مستحب وقت سے ہٹا کر ادا کی جاتی ہیں ایک تو مغرب کی نماز ہے جو اپنے مستحب وقت سے ہٹا کر (عشاء کے ساتھ) اس وقت پڑھی جاتی ہے جب لوگ (عرفات سے) مزدلفہ کو پہنچ جاتے ہیں اور دوسری نماز فجر ہے جو صبح صادق ہوتے ہی تاریکی میں پڑھی جاتی ہے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح ادا فرماتے ہوئے دیکھا ہے ۔ (اس کی روایت طحاوی نے کی ہے۔)

Hadith 823

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 925
ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تمہاری رات کی آخری نماز وتر کو قرار دو۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 751a (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: اس حدیث میں جو ارشاد ہوا ہے کہ رات کی نمازوں میں آخری نماز وتر ہونی چاہئے تو واضح رہے کہ یہ حکم مستحب ہے اس لئے وتر کے بعد اگر کوئی نماز ادا کرنا چاہے تو ادا کر سکتے ہیں کیونکہ حدیثوں سے ثابت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم وتر کے بعد دو رکعت ادا فرمایا کرتے تھے۔ (اشعۃ اللمعات)12۔

Hadith 824

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 926
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ مجھے میرے دلی دوست نے تین چیزوں کی وصیت فرمائی ہے (1) ایک ہر مہینے کے وسط میں ) تین روزہ رکھنے کی (جس کو ایام بیض کہتے ہیں) اور (2) دوسرے دو رکعت نماز چاشت ادا کرنے کی (جو نماز چاشت کی کم سے کم مقدار ہے اور آٹھ یا بارہ رکعت نماز چاشت کی پوری مقدار ہے)(3) تیسری وصیت یہ فرمائی کہ میں سونے سے قبل نماز وتر ادا کر لیا کروں۔ (اس کی روایت مسلم اور بخاری نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1981 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 721a (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 825

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 927
غُضَیْف بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا کہ مجھے یہ بتائیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنابت کا غسل اول شب میں کیا کرتے تھے یا آخر شب میں؟ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اول شب غسل جنابت فرمایا ہے تو کبھی آخر شب میں۔ میں نے کہا اللہ اکبر! اللہ کا شکر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دین میں آسانی فرما دی ہے۔ پھر میں نے دریافت کیا اچھا یہ فرمائیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز وتر اول شب میں ادا فرماتے تھے یا آخر شب میں؟ ام المؤمنین جواب دیں کہ کبھی اول شب میں آپ نے وتر ادا فرمائی اور کبھی آخر شب میں، میں نے کہا کہ اللہ اکبر! اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دین میں وسعت عطا فرمائی پھر میں نے دریافت کیا اچھا یہ بھی بتائیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (نماز تہجد میں) قرآن آواز سے پڑھا کرتے تھے یا آہستہ؟ ام المؤمنین ارشاد فرمائیں کہ کبھی آپ قرآن آواز سے پڑھتے تھے اور کبھی آہستہ، میں نے کہا اللہ اکبر! اللہ کا شکر ہے کہ جس نے دین میں آسانی کر دی ہے۔ (اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے اور ابن ماجہ نے صرف آخری فقرہ روایت کیا ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 226 (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 826

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 928
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص کو اندیشہ ہو کہ وہ اخیر رات نیند سے نہ اٹھ سکے گا تو وہ اول شب میں نمازِ وتر ادا کرلے اور جس کو امید ہو کہ وہ آخر شب میں اٹھ سکے گا تو وہ آخر شب میں نمازِ وتر ادا کرے کیوں کہ آخر شب کی نماز میں رحمت کے فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور اسی لئے آخر شب میں نماز وتر پڑھنا افضل ہے۔ (اس کی روایت مسلم اور امام احمد نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 755a (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 827

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 929
ولید بن عیزار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے ابو عمرو شیبانی رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ اس گھر کے مالک نے ہمیں یہ حدیث سنائی اور (یہ کہہ کر) عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے گھر کی طرف اشارہ کیا کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ اعمال میں کونسا عمل اللہ تعالیٰ کے پاس زیادہ پسندیدہ ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ نماز اس کے (مستحب) وقت پر ادا کرنا اور والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنا اور اللہ کے راستے میں جہاد کرنا (اللہ تعالیٰ کے پاس سب اعمال سے زیادہ پسندیدہ ہیں)۔ (اس کی روایت نسائی نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan al-Nasa'i 610 (unverified) 80% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 828

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 930
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے علی (رضی اللہ عنہ) تین چیزیں ہیں کہ ان میں دیر نہ کرو (ایک (1)) نماز کہ جب اس کا مستحب وقت ہو جائے (تو پھر اس کی ادائی میں دیر نہ کرنا) اور (2) دوسرے جنازہ کہ جب وہ آ جائے ۔ (تو اس کی نماز میں دیر نہ کرو) اور (3) تیسرے بے شوہر عورت کہ جب اس کو مناسب خاوند مل جائے (تو اس کے نکاح کر دینے میں دیر نہ کرو)۔ (اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 171 (unverified) 97% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 605 (unverified) 88% confidence

Mishkat (candidate) 605

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 829

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 931
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں (چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) ہر نماز کو ہمیشہ اس کے مستحب وقت پر ادا فرماتے تھے اس لئے کبھی ایسا اتفاق نہیں ہوا کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات تک کسی ایک کو بھی اس کے آخری وقت میں ادا فرمایا ہو۔ (اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 171 (unverified) 85% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 830

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 932
ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے ابوذر (رضی اللہ عنہ) اُس زمانے میں تمہارا کیا حال ہوگا جبکہ تم پر ایسے حکام مسلط ہوں گے جو نمازوں کو (ان کے آداب و شرائط کے لحاظ سے) مردہ کر کے پڑھیں گے یا نمازوں کو اُن کے مستحب وقت سے ہٹا کر مکروہ اوقات میں ادا کریں گے میں نے عرض کیا حضور ایسے وقت کیلئے آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم نمازوں کو ان کے مستحب وقت پر پڑھا کرو اور اگر اُسی نماز کو اُن حکام کے ساتھ پھر پا لو تو دوبارہ باجماعت پڑھ لو کیوں کہ وہ بعد والی نماز تمہارے لئے نفل ہوگی۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 648a (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

His statement: ‘Abrogated’ – its clarification has already been discussed in the chapter on timings.

(1) “His statement: ‘Abrogated’ – its clarification has already been discussed in the chapter on timings.”

Note 1

قوله

(۱) قوله: منسوخ مضى تحقيقه في باب المواقيت».

Note 1

ف: علامہ عینی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ ”مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً“ والی حدیث ابوذر رضی اللہ عنہ کی اس حدیث سے منسوخ ہے ”مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً“ والی حدیث کا خلاصہ یہ ہے کہ جس شخص کو طلوع آفتاب سے پہلے فجر کی ایک رکعت اور اسی طرح غروب آفتاب سے پہلے عصر کی ایک رکعت مل گئی اور اس نے باقی نماز کو طلوع یا غروب کے بعد ادا کرلی تو اس کو فجر اور عصر کی پوری پوری نماز مل گئی ”مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً“ والی حدیث ابوذر رضی اللہ عنہ کی مذکور الصدر حدیث سے متعارض ہورہی ہے کیونکہ ” مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً“ والی حدیث میں تاخیر صلوٰۃ کا جواز مذکور ہے اور ابوذر رضی اللہ عنہ کی مذکور الصدر حدیث سے تاخیر صلوٰۃ کا عدم جواز ثابت ہے اس لئے ضروری ہے کہ ان دونوں حدیثوں میں سے کوئی ایک حدیث منسوخ قرار پائے۔ ابوذر رضی اللہ عنہ کی حدیث اس وجہ سے منسوخ نہیں ہوسکتی کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث (حدیث نمبر:51/931) سے بصراحت ثابت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پوری عمر شریف میں کبھی کسی نماز میں تاخیر نہیں فرمائی بلکہ ہر نماز کو ہمیشہ اس کے مستحب وقت پر ادا فرمایا ہے، اس لئے ابوذر رضی اللہ عنہ کی مذکور الصدر حدیث ناسخ ہے اور ”مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً“ والی حدیث منسوخ۔ ”مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً“ والی حدیث کے منسوخ ہونے کی تفصیلی بحث اور مزید ناسخ حدیثوں کا ذکر ”بَابُ الْمَوَاقِيْتِ“ کی حدیث نمبر (9/861) کے فائدہ میں مذکور ہے؛ ملاحظہ فرمایا جائے۔12

Hadith 831

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 933
عبادہ بن الصامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میرے بعد تم پر ایسے حکام مسلط ہوں گے جن کو بروقت نماز ادا کرنے سے ان کے دنیاوی مشغولیات اس طرح مانع ہوں گے کہ نماز کا وقت ہی گزر جائے گا، اس لئے تم نماز کو اس کے مستحب وقت پر پڑھ لیا کرو۔ ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا میں (علیحدہ بروقت تنہا نماز پڑھ لینے کے بعد) ایسے امیروں کے ساتھ بھی نماز پڑھ لوں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہاں پڑھ لو۔ (اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 433 (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 832

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 934Noor 935
نافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے کہ جس شخص نے مغرب یا صبح کی نماز تنہا پڑھ لی اور اس کے بعد یہ نمازیں باجماعت مل گئیں تو وہ ان دونوں نمازوں کو پھر دوبارہ نہ پڑھے۔ (اس کی روایت امام مالک نے کی ہے)۔ اور دارقطنی نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اسی طرح اس حدیث کی روایت مرفوعاً کی ہے۔)

[Narrated by Al-Daraqutni from Ibn Umar (may Allah be pleased with him)]

Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 1154 (unverified) 75% confidence

Mishkat (candidate) 1154

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: ایسے زمانہ میں جب کہ حکام نمازوں میں تاخیر کرکے نمازوں کو مکروہ اوقات میں ادا کرتے ہوں تو مناسب یہ ہے کہ نمازیں تنہا مستحب اوقات میں ادا کرلی جائیں اور پھر حکام کے ساتھ نماز باجماعت میں نفل کی نیت سے شریک ہوجائیں یہ واضح رہے کہ نفل کی نیت سے شرکت صرف ظہر اور عشاء کی حد تک رہے گی کیوں کہ فجر اور عصر کے بعد نفل نمازیں جائز نہیں اور تنہا مغرب پڑھ لینے کے بعد نفل کی نیت سے مغرب کی نماز میں شرکت اس لئے ناجائز ہے کہ نفل نماز تین رکعت والی نہیں ہوا کرتی، اگر ایک رکعت کے اضافہ سے نفل کی چار رکعتیں پوری کرلی جائیں تو امام کی نماز کے خلاف ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ تنہا مغرب پڑھ لینے کے بعد نفل کی نیت سے مغرب کی جماعت میں شریک ہونا ناجائز ہے اگرچہ کہ مغرب کی نماز کے بعد نفل نمازیں ادا کرسکتے ہیں۔ (اشعۃ اللمعات۔)

Hadith 833

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 936Noor 937
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص کسی نماز کو بھول جائے یا اس نماز کو ادا نہ کرکے سو رہے تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ نماز جب یاد آئے (اور وہ مکروہ وقت نہ ہو) اسی وقت ادا کرلے۔ اور دوسری روایت میں ہے کہ اس کا کفارہ اس کے سوا اور کچھ نہیں۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 597 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 684a (unverified) 95% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 2

Whoever forgets a prayer or sleeps through it...

(2) The statement: "Whoever forgets a prayer or sleeps through it..." Imam Al-Shafi'i used this narration as evidence to allow the performance of missed prayers during the time when it is prohibited to pray. However, according to our position, it is disliked to pray during these prohibited times, whether it is a missed prayer, obligatory, or voluntary, because it is not necessary to pray immediately upon remembering. The main point here is that remembering the prayer makes it obligatory to perform it. If one remembers it during the prohibited time and delays it until the prohibited time has passed, then they would be acting in accordance with both hadiths—this one and the one that forbids praying during the prohibited times. I took this from "Umdat al-Qari," and it is supported by the hadith regarding the practice of resting, which comes later.

Note 2

قوله

(۲) قوله: من نسي صلاة أو نام عنها إلخ احتج به الشافعي على جواز قضاء الفوائت في الوقت المنهي عن الصلاة فيه، وعندنا كره تحريمها صلاة مطلقا، ولو قضاء أو واجبة أو نفلا في هذه الأوقات المنهية؛ لأنه ليس بلازم أن يصلي في أول حال الذكر، غاية ما في الباب أن ذكره سبب لوجوب القضاء، فإذا ذكرها في الوقت المنهي وأخرها إلى أن يخرج ذلك وصلّى، يكون عاملا بالحديثين، أحدهما هذا، والآخر حديث النهي في الوقت المنهي عنه. أخذته من عمدة القاري، ويؤيده حديث التعريس الذي يأتي بعده.

Note 1

ف: اس حدیث میں مذکور ہے کہ جو شخص کسی نماز کو بھول جائے یا نیند کی وجہ سے نماز ادا نہ کر سکے اور اس نماز کا وقت گزر جائے تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ جب وہ اس نماز کو یاد کرے اسی وقت پڑھ لے اس سے امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے استدلال کیا ہے کہ ممنوعہ اوقات میں قضا نمازوں کا ادا کرنا اس لئے جائز ہے کہ حدیث میں وارد ہے کہ جب نماز یاد آ جائے پڑھ لے، چونکہ نماز ممنوعہ اوقات میں یاد آئی ہے اس لئے ممنوعہ اوقات میں ہی نماز ادا ہونی چاہئے یہ امام شافعی رحمۃ علیہ کا قول ہے لیکن ہمارے پاس ان اوقات ممنوعہ میں فوت شدہ نماز یاد بھی آ جائے تو اس کا ان اوقات میں ادا کرنا مکروہ تحریمی ہے خواہ وہ نماز قضا ہو یا ادا ہو یا نفل۔ اس حدیث سے ہمارے پاس فوت شدہ نماز کے یاد آتے ہی اس کا وجوب ثابت ہوتا ہے نہ کہ اس نماز کا اسی وقت ادا کرنا، اور چونکہ دوسری حدیث سے ثابت ہے کہ ممنوعہ اوقات میں نمازوں کا ادا کرنا ناجائز ہے اس لئے ممنوعہ اوقات کی حدیث پر عمل کرتے ہوئے فوت شدہ نمازوں کو ممنوعہ اوقات میں ادا نہیں کیا جائے گا بلکہ ممنوعہ اوقات کے بعد وہ نمازیں ادا ہوں گی اور یہی وہ صورت ہے جس سے دونوں حدیثوں پر عمل ہو جاتا ہے اس کے برخلاف انس رضی اللہ عنہ کی اس حدیث پر عمل کر کے ممنوعہ اوقات میں فوت شدہ نمازوں کے یاد آتے ہی فوراً انہی اوقات میں نمازیں ادا کر لی جائیں تو اس حدیث پر عمل ہو جاتا ہے مگر ممنوعہ اوقات والی حدیث پر عمل نہیں ہوتا۔ علاوہ ازیں ہمارے قول کی تائید حدیث تعریس سے بھی ہوتی ہے جو آگے آ رہی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم راستہ میں آرام فرمائے یہاں تک کہ سورج نکل پڑا اور نماز فجر قضا ہو گئی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ فوراً سب اس جگہ سے کوچ کریں چنانچہ آگے جا کر سورج کے بلند ہونے کے بعد فوت شدہ نماز فجر ادا کی گئی۔ اگر ممنوعہ اوقات میں نماز کے یاد آتے ہی نماز کا اسی وقت پڑھ لینا جائز ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس موقع پر طلوع آفتاب کے ساتھ ہی نماز پڑھ کر آگے کوچ فرماتے لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نہیں فرمایا جو حنفی مسلک پر قوی دلیل ہے۔ (عمدۃ القاری)12۔

Hadith 834

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 938
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ (کسی وقت) نیند کی وجہ سے (کسی نماز کا وقت گزر جائے) تو کوئی قصور نہیں (بروقت نماز نہ پڑھنے کا گناہ تو نہیں ہوگا مگر نماز کی قضا ضروری ہوگی) البتہ بیداری میں (کسی وجہ سے کوئی نماز فوت ہو جائے) تو (ایسا شخص) قصوروار ہوگا (کہ اس نماز کی قضا بھی لازم ہوگی اور گناہ بھی ہوگا) اس لئے تم میں سے کوئی شخص کسی نماز کو بھول جائے یا اتنی دیر سو جائے کہ اس نماز کا وقت گزر جائے تو جب یاد آ جائے (اور مکروہ وقت نہ ہو) نماز ادا کر لے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے ”وَأَقِمِ الصَّلٰوةَ لِذِكْرِي“ (سورۂ طہ، پ:16، ع:1، آیت نمبر:14) میرے (خوف) سے جب نماز یاد آ جائے تو نماز ادا کر لیا کرو۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 681 (unverified) 85% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 835

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 939
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص وتر نہ پڑھ کر سو جائے یا وتر پڑھنا بھول جائے وہ وتر کو اس وقت پڑھ لے جب یاد آ جائے یا جب نیند سے بیدار ہو (اور مکروہ وقت نہ ہو)۔ (اس کی روایت ترمذی، ابوداؤد اور ابن ماجہ نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 465 (unverified) 96% confidence
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1431 (unverified) 96% confidence
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 1188 (unverified) 90% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: اس حدیث میں وتر کے فوت ہو جانے پر ارشاد ہو رہا ہے: ”فَلْيُصَلِّ إِذَا ذَكَرَ“، یعنی جب نماز وتر یاد آ جائے تو پڑھ لے اور یہی انس رضی اللہ عنہ کی حدیث (قضاء نماز کب ادا کرنا چاہئے والی حدیث دو احادیث) میں فرض نماز کے بھول جانے پر بھی اسی قسم کے الفاظ وارد ہیں اور وہ یہ ہیں: ”أَنْ يُصَلِّيَهَا إِذَا ذَكَرَهَا“، یعنی جب نماز کو یاد کر لے تو اسی وقت پڑھ لے جب وتر کیلئے ایسے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں جیسے فرض نماز کیلئے تو اس سے وتر کا وجوب ثابت ہوتا ہے۔12۔

Hadith 836

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 940
سعید بن المسیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب خیبر سے واپس ہوئے تو رات بھر چلتے رہے یہاں تک کہ جب رات کا آخری حصہ باقی رہ گیا تو آرام کیلئے ایک مقام پر اتر پڑے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا اے بلال (رضی اللہ عنہ) تم بیدار رہ کر صبح کی نماز کیلئے ہم کو بیدار کر دو اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین سو گئے اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ جہاں تک ہو سکا بیدار رہے پھر بلال رضی اللہ عنہ اپنی سواری کو ٹیکا دے کر مشرق کی طرف رخ کر کے بیٹھ رہے، یہاں تک کہ ان کو بھی نیند لگ گئی اور دھوپ اوپر آنے تک نہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے اور نہ بلال رضی اللہ عنہ اور نہ کوئی صحابی قافلہ سے جاگ سکے، سب سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھبرائے ہوئے اٹھے اور فرمایا اے کیا بلال؟ بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے بھی اسی نے سلا دیا جس نے حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) کو سلا دیا تھا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ کجاوے کسو اور یہاں سے چلو! تو سب نے اپنی سواریوں کو اٹھایا کجاوے کس دئیے اور کچھ دور چلے (اور جب آفتاب ایک نیزہ بلند ہو گیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو اذان کا حکم دیا اور بلال رضی اللہ عنہ نے اذان کہی پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی دو سنتیں اطمینان کے ساتھ ادا فرمائے (سنتوں کا پڑھنا التعلیق الممجد میں ”مسند امام احمد“ کے حوالے سے مذکور ہے) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو اقامت کا حکم دیا تو بلال رضی اللہ عنہ نے اقامت کہی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کو نماز صبح کی قضا پڑھائی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز سے فارغ ہونے کے بعد ارشاد فرمایا کہ جو شخص کسی نماز کو (اس طرح) بھول جائے (کہ نماز قضا ہوگئی) تو وہ فوت شدہ نماز کی قضا اس وقت ادا کرلے جب اس کو یاد آجائے (اور وہ وقت مکروہ نہ ہو) کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے ”وَأَقِمِ الصَّلٰوةَ لِذِكْرِي“ سورہ طہ، پ:16، ع:1، آیت نمبر:14) (جب نماز یاد آجائے تو پڑھ لیا کرو) (اس آیت کا ترجمہ ”لِذِكْرِي“ دال کے فتح اور الف مقصورہ کی قرأت کے لحاظ سے ہے، جس کی تحقیق ذیل کے فائدہ نمبر 1 میں آرہی ہے۔ (اس کی روایت امام مالک اور مسلم نے کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 680a (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف(1): واضح ہو کہ ”وَأَقِمِ الصَّلٰوةَ لِذِكْرِي“ میں دو قرأت: (1) ایک لِذِكْرِي (راء کے زیر اور یا متکلم کے ساتھ) اور دوسرے ”لِذِكْرَى“ (راء کے زبر اور الف مقصورہ کے ساتھ)۔ ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث (58/938) میں پہلی قرأت ”لِذِكْرِي“ کے لحاظ سے ترجمہ کیا گیا ہے۔ اور سعید بن المسیب رضی اللہ عنہ کی حدیث (60/940) میں دوسری قرأت لِلذِّكْرَى کے لحاظ سے ترجمہ کیا گیا ہے تحقیق یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں اس آیت سے جو استدلال فرمایا ہے وہ دوسری قرأت کی بناء پر جو راوی کے تصرف سے ”لِلذِّكْرَى“ ہوگیا ہے۔ چنانچہ ابوداؤد نے اسی روایت میں ”لِلذِّكْرَى“ کہا ہے اور ابن شہاب جن کو زہری کہا جاتا ہے اور جو اس حدیث کے راوی ہیں وہ بھی للذِّكرى کی قرأت پڑھا کرتے تھے۔ (التعلیق الممجد میں تنویر کے حوالہ سے ایسا ہی نقل کیا گیا ہے۔)12 ف(2): اس حدیث میں مذکور ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اپنی سواریوں کو اس مقام سے لے کر چلے یہاں تک کہ اس وادی سے باہر ہوگئے، چاہے تو یہ تھا کہ فوت شدہ نماز کو وہیں ادا کرتے اور پھر روانہ ہوتے ایسا نہ کر کے وہاں سے روانہ ہوئے اور نماز اس وقت ادا فرمائی جب کہ آفتاب ایک نیزہ بلند ہوچکا تھا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ممنوعہ اوقات میں نمازِ ادا آتے ہی نماز نہیں پڑھنا چاہئے بلکہ ممنوع وقت گزرنے کے بعد فوت شدہ نماز کو ادا کرنا چاہئے جیسا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے۔ (عمدة القاری۔)12

Hadith 837

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 941
شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے حکم اور حماد رضی اللہ عنہما سے ایسے شخص کے متعلق دریافت کیا جو سوتا رہا یہاں تک کہ نمازِ فجر کا وقت گزر گیا اور ایسے وقت بیدار ہوا کہ آفتاب کا کچھ حصہ طلوع ہو چکا تھا۔ دونوں نے جواب دیا کہ وہ اس وقت تک نماز نہ ادا کرے جب تک کہ آفتاب بلند نہ ہو جائے۔ (اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔)

Hadith 838

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 942
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ایسا (صاحب ترتیب) شخص جو کسی نماز کو بھول جائے اور اس قضا نماز کو ادا کئے بغیر دوسری نماز میں امام کے ساتھ شریک ہو جائے (فوت شدہ نماز جماعت میں شریک ہونے تک یاد نہ آئی اور شریک ہونے کے بعد یاد آگئی اور اس نے امام کے ساتھ پوری نماز ادا کی اور سلام پھیرا (اب) اس کا حکم یہ ہے کہ نماز باجماعت سے فراغت کے بعد پہلے اس فوت شدہ نماز کو ادا کرلے جس کو بھول گیا تھا اور اس کے بعد اس نماز کو دہرائے جس کو امام کے ساتھ پڑھا ہے۔ (اس کی روایت دار قطنی اور بیہقی نے کی ہے اور طبرانی اور خطیب نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔)
Commentary and footnotes (3)

Note 1

And from Ibn Umar...

(1) His saying: "And from Ibn Umar..." These hadiths are meant to clarify the rulings regarding making up missed prayers for the one who follows the proper sequence. Ibn al-Humam in Fath al-Qadir and the author of Bahr al-Ra'iq in the commentary on al-Manar have lengthy discussions on what our scholars have concluded regarding the condition of performing the missed prayer before the regular prayer for the validity of the performance. Those who wish may refer to them.

Note 1

قوله

(۱) قوله: وعن ابن عمر إلخ هذه الأحاديث لبيان الأحكام المتعلقة بقضاء الصلوات الفائتة لصاحب الترتيب. ولابن الهمام في فتح القدير وصاحب البحر الرائق» في شرح المنار» كلام طويل على ما ذهب إليه أصحابنا من اشتراط أداء القضاء قبل الأداء لصحة الأداء، من شاء فليراجع إليهما.

Note 1

ف: یہ حدیث اور اس کے بعد والی حدیثیں صاحب ترتیب کے احکام سے متعلق ہیں جو فوت شدہ نمازوں کو ادا کرنا چاہتا ہے، اس بارے میں مذہب حنفی یہ ہے وقتی نماز صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ قضا نماز پہلے ادا کی جائے کیوں کہ صاحب ترتیب کیلئے ترتیب اس طرح فرض ہے کہ وہ پہلے قضا نماز ادا کرے پھر وقتی نماز ادا کرے اس کی وضاحت نہایت شرح و بسط سے ابن الہمام نے فتح القدیر میں اور صاحب بحر الرائق نے شرح المنار میں کی ہے تفصیل کیلئے ان کتب کا مطالعہ کیا جائے۔12

Hadith 839

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 943
حبیب رضی اللہ عنہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں ان سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مغرب ادا فرمائی اور نمازِ عصر ادا کرنا بھول گئے تھے (غالباً یہ واقعہ کسی جنگ کا ہے) حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے دریافت فرمایا کہ کیا تم لوگوں نے مجھے نماز عصر پڑھتے ہوئے دیکھا ہے؟ صحابہ نے عرض کیا نہیں یارسول اللہ آپ نے نماز عصر نہیں پڑھی ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مؤذن کو حکم دیا تو مؤذن نے اذان دی پھر اقامت کہی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھی اور عصر کے بغیر جو مغرب کی نماز پڑھی گئی تھی اس کو شمار میں نہ لا کر دوبارہ نماز مغرب ادا فرمائی۔ (اس کی روایت امام احمد طبرانی اور ابو نعیم نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 615 (unverified) 30% confidence

Mishkat (candidate) 615

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 840

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 944
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ مشرکین قریش کو خندق کی لڑائی کے موقع پر برا بھلا کہنے لگے اور وجہ یہ بتائی کہ یارسول اللہ میں آفتاب غروب ہونے کے قریب تک نماز عصر ادا نہ کر سکا، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بخدا میں نے بھی نماز عصر نہیں پڑھی ہے، جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم بطحان کی وادی میں اترے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضوء فرمایا اور ہم سب نے بھی وضوء کیا اور اس وقت تک آفتاب غروب ہو چکا تھا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے نمازِ عصر ادا فرمائی اور اس کے بعد نماز مغرب پڑھی۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 596 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 631 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.