Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer

Hadith 830

(بعض نمازوں کو تاخیر کر کے مستحب وقت میں اور بعض نمازوں کو جلدی کر کے

In this book

Current reading

Prayer

(بعض نمازوں کو تاخیر کر کے مستحب وقت میں اور بعض نمازوں کو جلدی کر کے

Zujajat al-Masabih 830Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 932
ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے ابوذر (رضی اللہ عنہ) اُس زمانے میں تمہارا کیا حال ہوگا جبکہ تم پر ایسے حکام مسلط ہوں گے جو نمازوں کو (ان کے آداب و شرائط کے لحاظ سے) مردہ کر کے پڑھیں گے یا نمازوں کو اُن کے مستحب وقت سے ہٹا کر مکروہ اوقات میں ادا کریں گے میں نے عرض کیا حضور ایسے وقت کیلئے آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم نمازوں کو ان کے مستحب وقت پر پڑھا کرو اور اگر اُسی نماز کو اُن حکام کے ساتھ پھر پا لو تو دوبارہ باجماعت پڑھ لو کیوں کہ وہ بعد والی نماز تمہارے لئے نفل ہوگی۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 648a (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

His statement: ‘Abrogated’ – its clarification has already been discussed in the chapter on timings.

(1) “His statement: ‘Abrogated’ – its clarification has already been discussed in the chapter on timings.”

Note 1

قوله

(۱) قوله: منسوخ مضى تحقيقه في باب المواقيت».

Note 1

ف: علامہ عینی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ ”مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً“ والی حدیث ابوذر رضی اللہ عنہ کی اس حدیث سے منسوخ ہے ”مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً“ والی حدیث کا خلاصہ یہ ہے کہ جس شخص کو طلوع آفتاب سے پہلے فجر کی ایک رکعت اور اسی طرح غروب آفتاب سے پہلے عصر کی ایک رکعت مل گئی اور اس نے باقی نماز کو طلوع یا غروب کے بعد ادا کرلی تو اس کو فجر اور عصر کی پوری پوری نماز مل گئی ”مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً“ والی حدیث ابوذر رضی اللہ عنہ کی مذکور الصدر حدیث سے متعارض ہورہی ہے کیونکہ ” مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً“ والی حدیث میں تاخیر صلوٰۃ کا جواز مذکور ہے اور ابوذر رضی اللہ عنہ کی مذکور الصدر حدیث سے تاخیر صلوٰۃ کا عدم جواز ثابت ہے اس لئے ضروری ہے کہ ان دونوں حدیثوں میں سے کوئی ایک حدیث منسوخ قرار پائے۔ ابوذر رضی اللہ عنہ کی حدیث اس وجہ سے منسوخ نہیں ہوسکتی کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث (حدیث نمبر:51/931) سے بصراحت ثابت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پوری عمر شریف میں کبھی کسی نماز میں تاخیر نہیں فرمائی بلکہ ہر نماز کو ہمیشہ اس کے مستحب وقت پر ادا فرمایا ہے، اس لئے ابوذر رضی اللہ عنہ کی مذکور الصدر حدیث ناسخ ہے اور ”مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً“ والی حدیث منسوخ۔ ”مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً“ والی حدیث کے منسوخ ہونے کی تفصیلی بحث اور مزید ناسخ حدیثوں کا ذکر ”بَابُ الْمَوَاقِيْتِ“ کی حدیث نمبر (9/861) کے فائدہ میں مذکور ہے؛ ملاحظہ فرمایا جائے۔12