English
It is narrated from Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) forbade letting one's garment hang down during prayer and covering one's mouth.
العربية
Typed, pending editorial approval
۱۰۱۸ - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللهِ ﷺ نَهَى عَنِ السَّدْلِ فِي الصَّلَاةِ وَأَنْ يُغَطَّيَ الرَّجُلُ فَاهُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتَّرْمِذِيُّ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 1142
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں
سدل کرنے سے منع فرمایا ہے اور نمازی کو اپنے دہن یعنی منہ پر سر اور گردن سمیت ڈھاٹے کی طرح
کپڑا لپیٹنے سے بھی منع فرمایا ہے (اس لئے کہ اس سے قرأت اور سجدہ اچھی طرح ادا نہیں ہوتا۔)
(اس کی روایت ابوداؤد اور ترمذی نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 643 (unverified) 98% confidence
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 378 (unverified) 95% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: سدل کے معنی یہ ہیں کہ نمازی چادر یا رومال کو اپنے کندھوں پر اس طرح ڈالے کہ دونوں کناروں کو لٹکتا ہوا چھوڑ دے اور وہ سمٹے ہوئے نہ ہوں، یا قبا اور عباء کو اس طرح اوڑھ لے کہ اس کے آستینوں میں ہاتھ نہ ڈالا جائے یا ایک چادر یا کسی کپڑے میں سارے بدن کو اس طرح لپیٹ لے کہ دونوں ہاتھ اسی چادر یا کپڑے میں داخل کرلے ہوں جیسا کہ یہود کا دستور تھا، ان چیزوں سے نماز مکروہ ہوتی ہے۔ (مرقات اشعۃ اللمعات۔) اور عمدۃ الرعایۃ میں لکھا ہے: ”فان ارسل جانبا وضمه جانبه الآخر والقاه على منكبه فليس بسدل“۔ اگر چادر کے ایک کنارے کو لٹکتا ہوا چھوڑ دے اور دوسرے کنارے کو سمیٹ کر دوسرے کندھے پر ڈال دیا جائے تو یہ سدل نہیں کہلائے گا اور اس سے نماز مکروہ نہیں ہوتی۔