English
Narrated by Shaddad ibn Aws, may Allah be pleased with him: The Messenger of Allah, peace be upon him, said, "Differ from the Jews, for they do not pray in their shoes or sandals."
العربية
Typed, pending editorial approval
۱۰۳۱ - وَعَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «خَالِفُوا الْيَهُوْدَ؛ فَإِنَّهُمْ لَا يُصَلُّوْنَ فِي نِعَالِهِمْ وَلَا خِفَافِهِمْ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 1159
شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم (جوتے اور موزے پہنے ہوئے نماز پڑھ کر) یہود کی مخالفت کرو، اس
لئے کہ یہود (جوتے اور موزے پہنے ہوئے نماز نہیں پڑھتے۔)
(اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 652 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جوتے اور موزے پہن کر نماز پڑھنا دو شرطوں کے ساتھ مباح ہے، پہلی شرط یہ ہے کہ جوتے اور موزے پاک ہوں اور دوسری شرط یہ ہے کہ جوتا یا موزہ یا چپل اس قسم کے ہوں کہ سجدہ کی حالت میں پیروں کی تمام انگلیاں زمین پر ٹک جاتی ہوں۔ واضح ہو کہ ان شرطوں کے باوجود بھی جوتا یا چپل اتار کر نماز پڑھنا مستحب ہے، اس لئے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری عمل جوتے اتار کر نماز پڑھنا تھا۔ اب رہا یہود کی مخالفت تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں یہود اپنی نماز جوتا اور چپل نکال کر پڑھتے اور جوتے اور چپل پہن کر نماز پڑھنے کو جائز نہیں سمجھتے تھے اسی لئے حدیث میں ارشاد ہوا کہ یہود کی مخالفت میں جوتا اور چپل پہن کر نماز پڑھو، لیکن اس زمانے میں یہود و نصاریٰ اپنی اپنی نماز جوتے اور موزے پہنے ہوئے پڑھتے ہیں، اس لئے اس زمانے میں ان کی مخالفت یہ ہے کہ نماز جوتا اور چپل کے بغیر پڑھی جائے۔ (مرقات، عمدۃ القاری۔)