اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 1160
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کو نماز پڑھا رہے تھے کہ یکا یک حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے نعلین اُتار کر
بائیں جانب رکھ دیئے اور صحابہ نے جب یہ دیکھا تو وہ بھی اپنے اپنے نعلین اُتار دیئے اور جب رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز ختم کی تو فرمایا کہ تم نے اپنی نعلین کیوں اُتاری، صحابہ نے عرض کیا کہ
جب ہم نے دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نعلین مبارک اتار دیئے ہیں تو اس لئے ہم بھی اپنی
اپنی نعلین اُتار دیئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جبرئیل علیہ السلام میرے پاس آئے اور
خبر دی کہ نعلین میں نجاست ہے (اس لئے میں ان کو اُتار دیا) جب تم میں سے کوئی مسجد کو آئے تو دیکھ
لے اگر اپنی نعلین میں نجاست پائے تو اس کو پونچھ ڈالے پھر انہیں میں نماز پڑھے۔ (اس کی روایت
ابوداؤد اور دارمی نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 650 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: نماز شروع کرنے سے پہلے کئی چیزیں واجب ہیں، ان میں سے خفین اور نعلین کا بھی نجاستوں سے پاک ہونا شرط ہے، اس لئے ان میں سے کسی پر کوئی نجاست لگی ہو تو اس کو پاک کر دیا جائے اگر نجاست پاک نہ کی گئی تو نماز جائز نہیں ہوگی۔ اس لحاظ سے اس حدیث شریف میں جو واقعہ مذکور ہے اس پر بظاہر یہ شبہ ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں تھے اور جبرئیل علیہ السلام کے اطلاع دیئے پر آپ نے نعلین اُتار دیئے جن کو قذر یعنی نجاست لگی ہوئی تھی اور نماز کا اعادہ نہیں فرمایا حالانکہ مذکورہ بالا شرط کے لحاظ سے نماز کا اعادہ ضروری تھا۔ اس شبہ کے دو جواب ہیں: پہلا جواب یہ ہے کہ اس حدیث میں قذر کا لفظ واقع ہوا ہے جس کے معنی نجاست کے نہیں بلکہ ایسی چیز کے ہیں جس سے طبیعت کو ناگواری ہوتی ہے جیسے رینٹھ وغیرہ، چونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نعلین مبارک کو ایسی ہی چیز لگی تھی اسی لئے آپ نے نماز کا اعادہ نہیں فرمایا۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ اگر نعلین مبارک کو نجس چیز ہی لگی ہوئی تھی تو وہ مقدار درہم سے کم تھی جس سے نماز ادا ہو جاتی ہے اور اعادہ کی ضرورت باقی نہیں رہتی اور جبرئیل علیہ السلام کا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز میں اطلاع دینا آپ کی لطافت طبع کی وجہ سے تھا تا کہ آپ نعلین مبارک اُتار دیں اور نماز اکمل طریقہ سے ادا ہو جائے۔ (مرقات: اشعۃ اللمعات۔)