اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 1187
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نماز کی ابتداء بتکبیر تحریمہ سے اور قرآت کی ابتداء ”الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ“ سے فرماتے
تھے اور جب رکوع کرتے تو سر مبارک کو نہ اونچا کرتے نہ نیچا بلکہ ان دونوں کی درمیانی حالت میں اس
طرح رکھتے کہ گردن اور پیٹھ برابر رہتی اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو پوری طرح اطمینان کے ساتھ
سیدھے کھڑے ہوئے بغیر سجدہ میں نہیں جاتے تھے اور اسی طرح جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو اچھی
طرح بیٹھے بغیر دوسرا سجدہ نہیں فرماتے اور ہر دو رکعت کے بعد (قعدہ فرماتے) اور اس میں التحیات
پڑھتے اور قعدے میں بائیں پیر کے پنجہ کو زمین پر بچھاتے اور سیدھے پیر کے پنجہ کو کھڑا رکھتے اور
عقبۂ شیطان سے منع فرماتے تھے (عمدۃ الرعایۃ میں لکھا ہے کہ عقبۂ شیطان یہ ہے کہ پیروں کے
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 498 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
پنجوں کو اس طرح کھڑا کیا جائے جیسے سجدہ میں کھڑا کرتے ہیں اور پھر دونوں سرین کو ایڑیوں پر ٹکا کر ان پر بیٹھ جائے، نماز میں اس طرح بیٹھنا مکروہ ہے۔ یہ علامہ طیبی اور کرخی کا قول ہے جس کو ابن الہمام نے فتح القدیر میں ذکر کیا ہے اور اشعۃ اللمعات نے بھی اس کو ذکر کر کے لکھا ہے کہ لفظ عقبہ کو اسی معنی سے زیادہ مناسبت ہے، اس وجہ سے کہ عقب ایڑی کو کہتے ہیں، اور نہایہ میں بھی یہی مذکور ہے) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس بات سے بھی منع فرماتے تھے کہ مرد سجدہ میں اپنی دونوں باہیں (نیچے) اور کہنی کی درمیانی ہڈی) درندوں کی طرح زمین پر بچھائے (یہ حکم مردوں کے لئے ہے، عورتوں کو چاہئے کہ سجدہ میں اپنی باہیں بچھایا کریں) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کو سلام پھیر کر ختم فرماتے تھے۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)