اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 1271
محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم جب نفل نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوتے تو اللہ اکبر کہہ کر یہ دعاء پڑھتے، ”إِنِّي وَجَّهْتُ
میں نے تو ایک ہی کا ہو کر اپنا رخ اسی ذات پاک کی طرف کر لیا ہے جس نے آسمانوں اور
زمین کو بنایا اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔
محمد بن مسلمہ رحمۃ اللہ علیہ نے اس کے بعد دعاء کے وہی الفاظ نقل کئے جو جابر رضی اللہ عنہ کی
مذکورہ حدیث میں بیان کئے گئے ہیں لیکن جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں جہاں ”أَنَا أَوَّلُ
الْمُسْلِمِيْنَ“ کے الفاظ ہیں ان کی بجائے محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے ”وَأَنَا مِنَ
الْمُسْلِمِيْنَ“ کے الفاظ بیان کئے ہیں (پھر محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ) رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے (جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث کے دعائیہ الفاظ کے بعد) یہ دعاء پڑھی:
اے اللہ! آپ ہی شہنشاہ ہیں، بجز آپ کے کوئی معبود برحق نہیں، ہم آپ کی تعریف کرتے
ہوئے تمام عیبوں سے آپ کی پاکی بیان کرتے ہیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (اَعُوْذُ اور بِسْمِ
اللّٰهِ کے بعد) قرأت فرماتے تھے۔ (اس کی روایت نسائی نے کی ہے۔)
Arabic quotation in the English source
اللهُ أَكْبَرُ، وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ
اللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ
سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ، وَتَعَالَى جَدُّكَ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ، وَجَهْتُ وَجْهِيَ إلخ
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan al-Nasa'i 898 (unverified) 45% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: واضح ہوکہ مذکورہ بالا حدیثوں سے نماز میں تکبیر تحریمہ کے بعد جن دعاؤں کے پڑھنے کا ذکر ہے یہ دعائیں ابتداء اسلام میں ”سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ“ تا آخر کی بجائے پڑھی جاتی تھیں، لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عمل سے جیسا کہ اوپر گزر چکا ہے، معلوم ہوگیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری عمل تکبیر تحریمہ کے بعد ثناء میں صرف ”سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ“ تا آخر کا پڑھنا ہی تھا اس طرح ثابت ہوا کہ فرض نمازوں میں ثناء صرف ”سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ“ تا آخر ہی پڑھی جائے اور ثناء کے ساتھ کوئی اور دعاء شامل نہ کی جائے۔ اب رہا نوافل اور تہجد میں ان مذکورہ دعاؤں کا پڑھنا، اس بارے میں حنفی مذہب یہ ہے کہ ” سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ“ تا آخر کے بعد ان دعاؤں کو بھی پڑھا جاسکتا ہے، اس لئے کہ نفل نمازوں میں اس قسم کے اضافہ کی گنجائش ہے جیسا کہ ابوداؤد کی اس حدیث سے ظاہر ہوتا ہے وہ حدیث یہ ہے: عَنْ أَبِي سَعِيدِ الْخُدْرِيِّ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ كَبَّرَ ثُمَّ يَقُولُ ” سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَى جَدُّكَ وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ “ ، ثُمَّ يَقُولُ : ” لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ “–ثَلَاثًا– ثُمَّ يَقُولُ : ” اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا “–ثَلَاثًا – أَعُوذُ بِاللَّهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْخِهِ وَنَفْثِهِ . ثُمَّ يَقْرَأُ. اس حدیث کا خلاصہ یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم تہجد اور نوافل میں تکبیر تحریمہ کے بعد ” سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ وَ بِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَى جَدُّكَ وَلَا اِلٰهَ غَيْرُكَ “ پڑھتے، پھر اس حدیث کے دعائیہ الفاظ پڑھنے کے بعد قرأت شروع فرماتے۔ اور بیہقی کی ایک حدیث میں بھی یہی مذکور ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ”سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ“ تا آخر کے بعد ”وَجَّهْتُ وَجْهِيَ، الخ“ پڑھا کرتے تھے۔ حاصل بحث یہ ہے کہ فرض نمازوں میں تو صرف ”سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ“ تا آخر کی ثناء پر اکتفا کیا جائے اور نوافل و تہجد میں ”سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ“ تا آخر کے ساتھ مذکورہ احادیث کی دعاؤں اور اسی قسم کی دوسری دعائیں جو اور حدیثوں میں مذکور ہیں ان کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔ (رد المحتار، مرقات۔)