English
Ubayy bin Ka'b (may Allah be pleased with him) said about the verse of Allah: "And when your Lord took from the Children of Adam, from their loins, their descendants" (Surah Al-A'raf: 172), that Allah gathered them, turned them into spirits, and then He formed them. He made them speak, and they responded. Then Allah took the covenant and the oath from them and made them testify upon themselves: "Am I not your Lord?" He said: "I will bear witness to you, the seven heavens and the seven earths, and I will also bear witness to your father, Adam, that you will not say on the Day of Judgment: 'We were unaware of this.' Know that there is no deity except Me, and no Lord other than Me, and do not associate anything with Me. I will send My messengers to remind you of My covenant and oath, and I will send down My books upon you." They said, "We bear witness that You are our Lord and our God. There is no Lord for us other than You, and no God for us other than You." They acknowledged this, and Adam looked at them. He saw the rich and the poor, those of good appearance and others less so. Adam then said, "My Lord, why did You not make all of Your servants equal?" Allah replied, "I loved to be thanked." Then Adam saw the Prophets among them, shining like lamps, with light upon them. They were chosen with another covenant in the message and prophethood. This is as Allah, Blessed and Exalted, said: "And when We took the covenant from the Prophets..." up to His saying, "And Jesus, the son of Mary" (Al-Ahzab: 7). These souls were present, and He sent them to Maryam (Mary). It is narrated from Ubayy that he entered through her.
العربية
Typed, pending editorial approval
١١٥ - وَعَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ (رضي الله عنه) فِي قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ}(الأعراف: ۱۷۲) قَالَ: جَمَعَهُمْ فَجَعَلَهُمْ أَرْوَاحًا، ثُمَّ صَوَّرَهُمْ فَاسْتَنْطَقَهُمْ، فَتَكَلَّمُوا، ثُمَّ أَخَذَ عَلَيْهِمُ الْعَهْدَ وَالْمِيثَاقَ، وَأَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ؟ قَالَ: فَإِنِّي أُشْهِدُ عَلَيْكُمُ السَّمَاوَاتِ السَّبْعَ وَالْأَرَضِينَ السَّبْعَ، وَأُشْهِدُ عَلَيْكُمْ أَبَاكُمْ آدَمَ أَنْ تَقُولُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ: لَمْ نَعْلَمْ بِهَذَا. اعْلَمُوا أَنَّهُ لَا إِلَهَ غَيْرِي، وَلَا رَبَّ غَيْرِي، وَلَا تُشْرِكُوا بِي شَيْئًا، وَإِنِّي سَأُرْسِلُ إِلَيْكُمْ رُسُلِي يُذَكِّرُونَكُمْ عَهْدِي وَمِيثَاقِي، وَأُنْزِلُ عَلَيْكُمْ كُتُبِي.
قَالُوا: شَهِدْنَا بِأَنَّكَ رَبُّنَا وَإِلَهُنَا، لَا رَبَّ لَنَا غَيْرُكَ وَلَا إِلَهَ لَنَا غَيْرُكَ. فَأَقَرُّوا بِذَلِكَ، وَرَفَعَ عَلَيْهِمْ آدَمَ يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ، فَرَأَى الْغَنِيَّ وَالْفَقِيرَ، وَحَسَنَ الصُّورَةِ وَدُونَ ذَلِكَ، فَقَالَ: رَبِّ، لَوْلَا سَوَّيْتَ بَيْنَ عِبَادِكَ؟ قَالَ: إِنِّي أَحْبَبْتُ أَنْ أُشْكَرَ. وَرَأَى الْأَنْبِيَاءَ فِيهِمْ مِثْلَ السُّرُجِ، عَلَيْهِمُ النُّورُ، خُصُّوْا بِمِيثَاقِ آخَرَ فِي الرِّسَالَةِ وَالنُّبُوَّةِ، وَهُوَ قَوْلُهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {وَإِذْ أَخَذْنَا مِنَ النَّبِيِّينَ مِيثَاقَهُمْ} إِلَى قَوْلِهِ: {وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ}(الأحزاب : ۷) كَانَ فِي تِلْكَ الْأَرْوَاحِ، فَأَرْسَلَهُ إِلَى مَرْيَمَ - فَحُدِّثَ عَنْ أُبَيٍّ - أَنَّهُ دَخَلَ مِنْ فِيهَا. رَوَاهُ أَحْمَدُ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 125
اُبی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے (سورہ اعراف، آیت نمبر:172، پ:9،
ع:22،کی) اس آیت کے بارے میں روایت ہے ﴿ وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ
ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ، ﴾ (اے پیغمبر لوگوں کو وہ وقت بھی یاد دلا دو، جب تمہارے پروردگار نے بنی آدم
یعنی ان کی پشت سے ان کی نسلوں کو باہر نکالا)۔
حضرت اُبی ابن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو جمع فرمایا اور ان کو مختلف گروہ
میں تقسیم کیا (یعنی غنی و فقیر اور نیک و بد) پھر ان کو صورت عطا فرمائی اور ان کو گویا کیا تو انھوں نے کہنا شروع
کیا، پھر ان سے عہد و پیمان لیا اور خود ان کو ان ہی پر گواہ بنایا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ تو ان سب نے
کہا: کیوں نہیں! بیشک آپ ہمارے رب ہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں تم پر ساتوں آسمانوں اور ساتوں
زمینوں کو گواہ رکھتا ہوں اور تمہارے باپ آدم کو بھی تم پر گواہ بناتا ہوں تاکہ قیامت کے روز تم یہ نہ کہہ سکو کہ ہم
کو اس کا علم نہ تھا، یقین رکھو کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور نہ میرے سوا کوئی تمہارا پروردگار ہے اور
میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، میں تمہارے پاس اپنے رسولوں کو بھیجوں گا جو تم کو میرا یہ عہد و پیمان یاد
دلاتے رہیں گے اور تمہارے لئے اپنی کتابیں نازل کروں گا۔ ان سب نے کہا: ہم گواہی دیتے ہیں
کہ آپ ہمارے رب ہیں اور ہمارے معبود ہیں، آپ کے سوا کوئی ہمارا رب نہیں اور نہ آپ کے سوا
کوئی ہمارا معبود ہے، سب نے اس کا اقرار کر لیا اور آدم علیہ السلام کو ان تمام پر بلند فرمایا کہ سب کو دیکھ
لیں تو آپ نے دیکھا کہ اس میں کوئی تونگر ہے اور کوئی محتاج اور کوئی خوبصورت ہے اور کوئی بدشکل،
آدم علیہ السلام نے کہا: اے رب! سب بندوں کو آپ نے برابر کیوں نہیں کیا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
میں چاہتا ہوں کہ میرا شکر ادا کیا جائے، آدم علیہ السلام نے ان انبیاء (علیہم السلام) کو چراغوں کی
مانند (روشن) دیکھا جن پر نور تھا اور وہ ایک دوسرے سے خصوصی عہد رسالت اور نبوت سے مخصوص
کئے گئے اور یہ اللہ کے اس قول (سورہ احزاب، پ:21، ع:1، آیت نمبر:7،) میں مذکور ہے، وہ یہ
ابْنِ مَرْيَمَ ۞ (اس وقت کو یاد کرو جب کہ ہم نے تمام انبیاء سے عہد لیا اور آپ سے بھی اور حضرت
نوح، ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ بن مریم علیہم السلام سے بھی) اور عیسیٰ علیہ السلام کی روح بھی ان ہی میں
تھی جس کو مریم علیہا السلام کے پاس بھیجا۔ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی گئی ہے کہ عیسیٰ
علیہ السلام کی روح مریم علیہا السلام کے منہ سے داخل ہوئی۔ (اس کو امام احمد نے روایت کیا ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Mishkat al-Masabih 122 (unverified) 60% confidence
Mishkat (candidate) 122
Confidence and text similarity are not editorial verification.