العربية
Typed, pending editorial approval
١١٥٣ - وَعَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّهُ قَالَ: «مَنْ صَلَّى خَلْفَ الْإِمَامِ فَإِنَّ قِرَاءَةَ الْإِمَامِ لَهُ قِرَاءَةٌ. رَوَاهُ مُحَمَّدٌ وَالدَّارَقُطْنِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ عَنِ إِمَامِنَا أَبِي حَنِيفَةَ، وَهُوَ أَحْسَنُ طُرُقِهِ، حَكَمَ عَلَيْهِ ابْنُ الْهُمَامِ بِأَنَّهُ صَحِيحُ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ.
وَقَالَ الْعَيْنِيُّ: هُوَ حَدِيْثٌ صَحِيحٌ، أَمَّا أَبُو حَنِيفَةَ فَأَبُو حَنِيفَةَ. وَمُوسَى بْنُ عَائِشَةَ الْكُوفِيُّ مِنَ الثَّقَاتِ الْأَثْبَاتِ، مِنْ رِجَالِ الصَّحِيحَيْنِ. وَعَبْدُ اللهِ بْنُ شَدَّادٍ مِنْ كِبَارِ الشَّامِيِّينَ وَثِقَاتِهِمْ، وَهُوَ حَدِيثُ صَحِيحُ. انْتَهَى
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ہے اس حدیث کی روایت امام محمد دارقطنی اور بیہقی نے ہمارے امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ سے کی ہے اور اس حدیث کی سند سب سے احسن ہے اور اس کے متعلق امام ابن الہمام رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے کہ اس حدیث کے راوی بخاری اور مسلم کی شرط کے موافق ہیں، اس لئے یہ حدیث صحیح ہے۔ اور علامہ عینی رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے اور ابو حنیفہ تو ابو حنیفہ ہی ہیں ان کا کیا کہنا، اور موسیٰ بن عائشہ کوفی نہ صرف ثقہ اور معتبر ہیں بلکہ بخاری اور مسلم کے راویوں میں سے ہیں، اور عبداللہ بن شداد شام کے بڑے محدث اور ثقہ ہیں اس طرح اس سند کی مذکور الصدر تحقیق سے ثابت ہوا کہ یہ حدیث صحیح ہے۔ (علامہ عینی کی تحقیق یہاں ختم ہوئی۔)