العربية
Typed, pending editorial approval
١١٥٥ - وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ قَالَ: أَمَّ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ فِي الْعَصْرِ، قَالَ: فَقَرَأَ رَجُلٌ خَلْفَهُ فَغَمَزَهُ الَّذِي يَلِيْهِ، فَلَمَّا أَنْ صَلَّى قَالَ: لِمَ غَمَرْتَنِي؟ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ ﷺ
قُدَّامَكَ، فَكَرِهْتُ أَنْ تَقْرَأَ خَلْفَهُ. فَسَمِعَهُ النَّبِيُّ ﷺ وَقَالَ: «مَنْ كَانَ لَهُ إِمَامُ فَإِنَّ قِرَاءَتَهُ لَهُ قِرَاءَةٌ. رَوَاهُ مُحَمَّدُ وَالدَّارَقُطْنِي. وَرَوَى الْحَاكِمُ فِي مُسْتَدْرَكِهِ وَالْبَيْهَقِيُّ نَحْوَهُ.
قَالَ الْعَلَامَةُ الْعَيْنِيُّ فِي شَرْحِ الْبُخَارِيِّ فِي بَيَانِ هَذَا الْحَدِيْثِ: إِنَّهُ رَوَاهُ جَمَاعَةٌ مِنَ الصَّحَابَةِ، وَهُمْ جَابِرُ بْن عَبْدِ اللهِ وَابْنُ عُمَرَ وَأَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ وَأَبُو هُرَيْرَةَ وَابْنُ عَبَّاسٍ وَأَنَسُ بْنُ مَالِكِ . وَقَالَ الشَّيْخُ الْعَابِدُ - السِّنْدِيُّ - مُوَلَّدًا وَالْمَدَنِيُّ مُهَاجِرًا - في شَرْحِ الْمُسْنَدِ لِإِمَامِنَا أَبِي حَنِيفَةَ بَعْدَ مَا ذَكَرَ هَذِهِ الرِّوَايَةَ: فَنَقُولَ: لَمَّا ثَبَتَ نَهْيُ الْعَشَرَةِ الْمَذْكُورَةِ وَلَمْ يَثْبُتْ رَدُّ أَحَدِهِمْ عَلَيْهِمْ عِنْدَ تَوَافُرِ الصَّحَابَةِ كَانَ إِجْمَاعًا سُكُوتِيًّا. انْتَهَى مُلَخَّصًا
Commentary and footnotes (1)
Note 1
علامہ عینی رحمہ اللہ نے شرح بخاری میں اس حدیث شریف کے بیان میں کہا ہے کہ اس کی روایت صحابہ کرام کی ایک جماعت نے کی ہے جن کے نام یہ ہیں، جابر بن عبداللہ ابن عمر، ابوسعید خدری، ابوہریرہ، ابن عباس اور انس بن مالک رضی اللہ عنہم۔ علاوہ ازیں امام حارثی رحمۃ اللہ علیہ نے عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے کتاب کشف الاسرار میں یہ روایت لکھی ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں دس جلیل القدر صحابہ مقتدی کے لئے بڑی شدت سے قرأت خلف الامام کی ممانعت فرماتے تھے ان کے نام یہ ہیں: حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر بن خطاب، حضرت عثمان بن عفان، حضرت علی بن ابی طالب، عبدالرحمن بن عوف، سعید بن ابی وقاص، عبداللہ بن مسعود، زید بن ثابت، عبداللہ بن عمر، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم۔ اس بارے میں علامہ عابد سندی مدنی رحمہ اللہ نے شرح مسند امام اعظم رضی اللہ عنہ میں لکھا ہے کہ قرأت خلف الامام کی ممانعت مذکورہ دس صحابہ رضی اللہ عنہم سے ثابت ہوچکی ہے جن کا رد کسی صحابی نے نہیں کیا، حالانکہ اس وقت صحابہ کرام کی ایک کثیر تعداد موجود تھی اور اس کثرت کے باوجود کسی صحابی کا ان دس صحابہ پر رد نہ کرنا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ دیگر صحابہ کا قرأت خلف الامام کی ممانعت پر سکوت حقیقت میں تمام صحابہ کرام کا اجماع سکوتی ہے جو شرعاً لائق حجت ہے۔