English
On the authority of Abu Hurairah: The Messenger of Allah (ﷺ) said: "When the Imam says 'Ameen,' then say 'Ameen,' for whoever's 'Ameen' coincides with that of the angels, his past sins will be forgiven." [Agreed upon]
In another narration: "When the Imam says: غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ,' then say 'Ameen'; 1 for whoever's 'Ameen' coincides with that of the angels, his past sins will be forgiven." This is the wording of Al-Bukhari, and Muslim reported something similar.
In another narration by Al-Bukhari: "When the reciter says 'Ameen,' then say 'Ameen,' for the angels also say 'Ameen,' and whoever's 'Ameen' coincides with that of the angels, his past sins will be forgiven."
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 780 (unverified) 99% confidence
- Candidate: Sahih al-Bukhari 782 (unverified) 97% confidence · Validation similarity: 0.616
- Candidate: Sahih Muslim 410a (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) His statement: "When the Imam says غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ,' then say 'Ameen'" clearly indicates that the followers should say 'Ameen' after the Imam finishes reciting these words. From this, it is understood that the Imam recites 'Ameen' silently; for if it were prescribed to say it aloud, the Prophet (ﷺ) would have said: "When the Imam says 'Ameen,' then say 'Ameen'" instead of linking it to "Ghayr al-maghdubi 'alayhim wa la al-dallin." If one argues that a previous hadith states, "When the Imam says 'Ameen,' then say 'Ameen,'" implying that the followers should hear him say it, the response is given in "Al-Ta'liq Al-Hasan." The majority of scholars interpreted "When the Imam says 'Ameen'" metaphorically to reconcile both narrations. They explained that it means "when the Imam intends to say 'Ameen,'" similar to how Allah says: "When you rise for prayer" (Al-Ma'idah: 6), meaning "when you intend to pray." Ibn Hajar mentioned in "Fath Al-Bari" that scholars have interpreted "when the Imam says 'Ameen'" metaphorically. Thus, it does not necessarily indicate that the Imam says 'Ameen' aloud. This is summarized from "I'laa Al-Sunan."
Note 1
(۱) قوله: إذا قال الإمام غير المغضوب عليهم ولا الضالين فقولوا آمين: دلالة الحديث على قول المأموم: «آمين» بعد قول الإمام: «وَلَا الضَّالِّينَ ظاهرة، ويستفاد منه أن الإمام يخفي بها؛ لأن تأمين الإمام لو كان مشروعا بالجهر لما علق النبي ﷺ تأمينهم بقوله : «وَلَا الضَّالِّينَ»، بل علق بقوله: «آمين». فإن قلت: قد جاء في الحديث السابق: إذا أمن الإمام فأمنوا». وفيه علق تأمين المأمومين بتأمينه، وإنهم لا يعلمون تأمينه إلا أن يسمعوا. قلت: أجاب عنه في التعليق الحسن بأن الجمهور حملوا قوله: «إذا أمن» على المجاز؛ للجمع بينه وبين قوله : إذا قال الإمام: وَلَا الضَّالِّينَ فقولوا آمين، وقالوا بأن المراد إذا أراد التأمين، وهذا كما قال الله تعالى: ﴿إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَوةِ (المائدة :(٦) أي إذا أردتم إقامة الصلاة. قال الحافظ ابن حجر في «الفتح»: قالوا: فالجمع بين الروايتين يقضي حمل قوله: «إذا أمن على المجاز . اهـ فإذا كان معناه : إذا أراد التأمين، لا يستفاد منه الجهر بالتأمين للإمام. من تعليق إعلاء السنن ملخصا.
Note 1
ف: اس حدیث سے صاف ظاہر ہے کہ امام کے ”وَلَا الضَّآلِّينَ“ کہنے کے بعد مقتدی آمین کہے چونکہ امام کے آمین کہنے کا وقت بھی یہی ہے، اس لئے امام اور مقتدی کی آمین ساتھ ساتھ ہوگی۔ اس حدیث میں امام کے ”وَلَا الضَّآلِّينَ“ کہنے کے بعد مقتدی کو آمین کہنے کا جو حکم ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ امام بھی آہستہ آمین کہہ رہا ہے اگر امام کا جہر سے آمین کہنا مشروع ہوتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مقتدی کو آمین کہنے کو امام کے ”وَلَا الضَّآلِّينَ“ کہنے سے متعلق نہ کر کے امام کے آمین کہنے سے متعلق فرماتے۔ اس حدیث کی پہلی روایت کے الفاظ ”إِذَا أَمَّنَ الْإِمَامُ فَأَمِّنُوا“ سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ مقتدی امام کے آمین کہنے پر آمین کہے مگر حقیقت میں اس کے یہ معنی نہیں ہیں اگر ”إِذَا أَمَّنَ الْإِمَامُ فَأَمِّنُوا“ کے یہ معنی لئے جائیں تو اس حدیث کی پہلی روایت اور اس کی دوسری روایت جس کے الفاظ یہ ہیں: ”إِذَا قَالَ الْإِمَامُ ”غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ“ فَقُولُوا: ”آمِينَ“۔ (جب امام ’وَلَا الضَّآلِّينَ‘ کہے تو تم آمین کہو) میں تضاد واقع ہوتا ہے۔ کیونکہ پہلی روایت میں یہ ہے کہ مقتدی اس وقت آمین کہے جب امام آمین کہے اور دوسری روایت میں یوں ہے کہ مقتدی اس وقت آمین کہے جب امام ”وَلَا الضَّآلِّينَ“ کہہ لے۔ ان دونوں روایتوں کے تضاد کو دور کرنے کے لئے جمہور نے یوں تطبیق دی ہے کہ ”غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ“ والی حدیث کے معنی کو حقیقت پر محمول کیا ہے اور ”إِذَا أَمَّنَ الْإِمَامُ“ والی حدیث کے معنی کو مجاز پر، اس طرح کہ پہلی روایت ”إِذَا أَمَّنَ الْإِمَامُ فَأَمِّنُوا“ کے معنی مجازی اس طور پر یہ لئے گئے ہیں کہ جب امام آمین کہنے کا ارادہ کرے تو تم آمین کہو، اس کی مثال اسی طرح ہے جیسے آیت ”إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلٰوةِ“ کے مجازی معنی (جب تم نماز کے لئے کھڑے ہونے کا ارادہ کرو) لئے گئے ہیں۔ اور دوسری حدیث: ”إِذَا قَالَ الْإِمَامُ ”غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ“ فَقُولُوا: ”آمِينَ“ کے معنی حقیقی یہ لئے گئے ہیں کہ امام جب ”وَلَا الضَّآلِّينَ“ کہہ کر آمین کہنے کا ارادہ کرے تو تم ”آمین“ کہو اب تضاد باقی نہ رہا اور دونوں روایتوں کے ایک ہی معنی ہوئے اسی بناء پر ہم نے صدر میں ”إِذَا أَمَّنَ الْإِمَامُ فَأَمِّنُوا“ والی حدیث کا ترجمہ یہ کیا ہے کہ جب امام آمین کہنے کا ارادہ کرے تو تم آمین ہوتا کہ دوسری روایت سے اس کا تطابق ہو جائے۔ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے فتح الباری میں ”إِذَا أَمَّنَ‘‘ والی حدیث کے یہی معنی مجازی لئے ہیں۔ (یہ پورا مضمون ”تعلیق اعلاء السنن‘‘ سے ماخوذ ہے۔)