Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer

Hadith 1299

(یہ باب نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے اور اس کی فضیلت کے بیان میں ہے)

In this book

Current reading

Prayer

(یہ باب نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے اور اس کی فضیلت کے بیان میں ہے)

Zujajat al-Masabih 1299Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1479
ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے سنا ہے کہ تم اپنے گھروں کو قبریں نہ بناؤ (یعنی گھروں میں مُردوں کی طرح پڑے سوتے نہ رہو بلکہ گھروں میں بھی نفل نمازیں پڑھا کرو اور جس طرح مسجدوں میں عبادتیں کر کے انوار حاصل کرتے ہو اسی طرح گھروں میں بھی کچھ نہ کچھ عبادتیں کر کے انوار حاصل کرتے رہو) اور تم میری قبر کو عید نہ بناؤ یعنی (کبھی کبھی اتفاقیہ طور پر میری قبر پر نہ آیا کرو بلکہ قصداً بار بار میری قبر پر آنے کی کوشش کرنا اور اگر ایسا نہ ہو سکے تو بار بار آنے کی آرزو دل میں رکھنا۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 926 (unverified) 60% confidence

Mishkat (candidate) 926

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد فرمانا کہ ”میری قبر کو عید نہ بناؤ“ ایسا ہی ہے کہ جیسا کہ آپ ہم اپنے کسی دوست کو جو بہت دنوں بعد آئے کہا کرتے ہیں کہ تم تو عید کے چاند ہو چنانچہ اشعۃ اللمعات اور مرقات میں اس ارشاد مبارک کی شرح اس طرح کی گئی ہے کہ میری قبر کی زیارت کو عید کی طرح کبھی کبھی نہ آؤ‘‘، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو اپنی قبر شریف کی زیارت کی ترغیب اس لئے دی ہے کہ آپ رحمۃ للعالمین ہیں، آپ اپنی امت کو وہ ساری فضیلتیں دلوانا چاہتے ہیں جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر شریف کی زیارت سے حاصل ہوتی ہیں ان فضیلتوں کو قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی شفاء شریف میں اور شاہ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے جذب القلوب اور مولانا انوار اللہ خاں صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے عمران القلوب میں تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا ہے منجملہ ان کے ذیل میں چند حدیثیں نمونتاً درج کی جاتی ہیں۔ (1) طبرانی نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی ہے ”مَنْ زَارَ قَبْرِي وَجَبَتْ لَهُ شَفَاعَتِي“ جس نے میری قبر (شریف) کی زیارت کی ہے میں اس کی ضرور شفاعت کروں گا۔ (2) بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً روایت کی ہے: ”مَنْ حَجَّ فَزَارَ قَبْرِي بَعْدَ مَوْتِي كَانَ كَمَنْ زَارَنِي فِي حَيَاتِي“ (جو کوئی حج کر کے میری قبر کی زیارت کرے گا تو اس کو میری زندگی میں ملاقات کرنے کا شرف اور ثواب حاصل ہوگا۔) (3) علامہ ملا علی قاری نے شرح شفاء میں لکھا ہے کہ حضرت امیر المؤمنین علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ”مَنْ زَارَ قَبْرِي بَعْدَ مَوْتِي فَكَأَنَّمَا زَارَنِي فِي حَيَاتِي وَمَنْ لَمْ يَزُرْ قَبْرِي فَقَدْ جَفَانِي“ (میرے انتقال کے بعد میری قبر کی زیارت کرنے والا میری زندگی میں مجھ سے ملاقات کرنے والے کے جیسا ہے اور جس نے میری قبر کی زیارت نہ کی تو اس نے مجھ پر ظلم اور جفا کیا۔) صاحبو! اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ظلم و جفا کرنے کا کیا نتیجہ ہے اس کو سوچ لو، قبر شریف کی زیارت کرنے سے ایک فضیلت یہ بھی حاصل ہوتی ہے کہ زیارت کرنے والے کے گناہوں کی بھی مغفرت ہو جاتی ہے۔ علامہ قسطلانی شارح بخاری نے مواہب لدنیہ میں، علامہ نور الدین علی سمہودی نے خلاصۃ الوفا میں، اور شیخ ابن عبداللہ النعمانی نے مصباح الظلام فی المستغیثین بخیر الانام میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے روایت کی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دفن سے تین دن بعد ایک اعرابی آیا اور قبر شریف سے لپٹ گیا اور قبر مبارک سے مٹھی بھر خاک لے کر اپنے سر پر ڈال لی اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے جو فرمایا تھا ہم نے اسے سنا اور جو کچھ آپ نے اللہ تعالیٰ سے محفوظ رکھا ہم نے اس کو آپ سے سیکھ کر محفوظ اور یاد رکھا، آپ پر جو قرآن شریف (اترا ہے اس کی ایک آیت یہ ہے (سورہ نساء پ5ع19) ”وَلَوْ اَنَّهُمْ اِذْ ظَلَمُوْا اَنْفُسَهُمْ جَاءُوْكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللّٰهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللّٰهَ تَوَّابًا رَّحِيْمًا“ (آپ کی امت: جس وقت اپنی جانوں پر ظلم کرے یعنی کسی گناہ میں مبتلا ہو، پھر (ندامت کے ساتھ) آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہ کی معافی چاہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یعنی آپ بھی اس کیلئے معافی طلب کریں تو وہ اللہ تعالیٰ کو ضرور توبہ قبول کرنے والا اور نہایت رحم اور مہربانی کرنے والا پائیں گے۔) اس آیت کو پڑھ کر اُس اعرابی نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے اپنی جان پر ظلم کیا یعنی گناہ میں مبتلا ہوا ہوں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت مبارک میں اس لئے حاضر ہوا ہوں کہ آپ اللہ تعالیٰ سے میری مغفرت چاہیں، اسی وقت قبر شریف سے آواز آئی کہ یقیناً تیری مغفرت ہوگئی اور تجھے بخش دیا گیا۔ اس سے بھی مزار شریف پر حاضر ہونا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کرنا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا معروضہ قبول فرمانا یہ سب چیزیں ثابت ہوتی ہیں، اس واقعہ کو ابن عساکر اور ابن الجوزی نے بھی نقل کیا ہے اور عمران القلوب میں لکھا ہے کہ یہ واقعہ مشہور واقعات میں سے ہے اور چاروں مذاہب کے ائمہ اور راویوں نے مختلف روایتوں اور متعدد طرق سے اس واقعہ کو نقل کیا ہے۔ مسلمانو! تم خوش تقدیر ہو کہ ایسی دولت تمہیں نصیب ہوئی تم قصداً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر شریف پر زیارت کی نیت سے حاضر ہوا کرو تاکہ تمہارے گناہ معاف ہوجائیں اور تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کے مستحق بنو اور تمہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ملاقات کرنے والے کے جیسا درجہ حاصل ہوجائے اور جنت میں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا قرب نصیب ہو اور خبردار! قبر شریف پر حاضر نہ ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جفا کرنے والے نہ بنو۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اسی حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی روایت کی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے کہ تم جہاں کہیں ہو مجھ پر درود بھیجا کرو (یہ خیال نہ کیا کرو کہ ہم دُور افتادہ اتنی دور سے درود پڑھا کریں تو حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کیسے خبر ہوگی نہیں نہیں مجھے ضرور خبر ہوگی) اور تمہارا درود جہاں کہیں سے ہو مجھے پہنچ جایا کرے گا۔ (اس کی روایت نسائی نے کی ہے۔)