اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 1541
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے ارشاد فرمایا کہ گزشتہ رات حضرت سلیمان علیہ السلام کے زمانہ کا ایک جن (جو ان کی قید میں
تھا قید سے چھوٹ کر آیا) اور میری نماز توڑ ڈالنا چاہتا تھا، مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے اس پر قابو عطا فرمایا تو میں
نے اس کو پکڑ لیا اور ارادہ کیا کہ اس کو مسجد کے کسی ستون سے باندھ دوں تاکہ (صبح) تم سب اس کو
دیکھ لیں (اور معلوم کر لیں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بھی قدرت دی ہے جیسے سلیمان علیہ السلام کو دی تھی)
لیکن پھر مجھے اپنے بھائی سلیمان علیہ السلام کی یہ مقبول دعا یاد آگئی ”رَبِّ اغْفِرْلِيْ وَهَبْ لِيْ
مُلْكًا لَّا يَنْبَغِيْ لِأَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِيْ“ (سورۂ ص:35)(الٰہی مجھے ایسی حکومت عطا فرما کہ میرے
بعد کسی کو نصیب نہ ہو) اس لئے میں اس کو ناکام واپس کر دیا۔
(اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 461 (unverified) 99% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 541a (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث میں ارشاد ہے ”فَأَخَذْتُهُ“ (میں نے اس جن کو پکڑ لیا) پکڑنا عمل قلیل ہے جو ضرورت سے تھا اس لئے یہ عمل قلیل مفسد نماز نہیں۔ (عمدۃ القاری۔) اور مرقات میں ہے کہ ابن الملک نے کہا ہے کہ یہ حدیث شریف اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ جنات کا جسم نجس نہیں ہے اس لئے جنات کو نماز کی حالت میں پکڑنا طہارت کی شرط کے خلاف نہ ہوگا، اس لئے اس سے بھی نماز باطل نہیں ہوگی۔ ابن الملک نے یہ بھی کہا ہے کہ اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ حالت نماز میں اگر نمازی کے دل میں ایسے افعال کا وسوسہ پیدا ہو جو افعال نماز سے نہ ہوں تو اس سے بھی نماز فاسد نہیں ہوتی۔