Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Faith

Hadith 137

Chapter on Adhering to the Qur'an and the Sunnah

In this book

Current reading

Faith

Chapter on Adhering to the Qur'an and the Sunnah

Zujajat al-Masabih 137Volume 1

English

From Jabir (may Allah be pleased with him), who said: The angels came to the Prophet (peace be upon him) while he was asleep, and they said: "Your companion has an example, so strike an example for him." Some of them said: "He is asleep." Some of them said: "His eyes are asleep, but his heart is awake." They said: "His example is like a man who built a house, placed a banquet in it, and sent an inviter. Whoever answered the call entered the house and ate from the banquet, and whoever did not answer the call did not enter the house and did not eat from the banquet." They said: "Interpret this for him so that he may understand it." Some of them said: "He is asleep." Some of them said: "His eyes are asleep, but his heart is awake." They said: "The house is Paradise, and the inviter is Muhammad (peace be upon him). Whoever obeys Muhammad (peace be upon him) has obeyed Allah, and whoever disobeys Muhammad (peace be upon him) has disobeyed Allah. Muhammad (peace be upon him) is the distinction between the people."

العربية

Typed, pending editorial approval
۱۳۷ - وَعَنْ جَابِرٍ (رضي الله عنه) قَالَ: جَاءَتْ مَلَائِكَةٌ إِلَى النَّبِيِّ ﷺ وَهُوَ نَائِمٌ، فَقَالُوا: إِنَّ لِصَاحِبِكُمْ هَذَا مَثَلًا فَاضْرِبُوا لَهُ مَثَلًا. فَقَالَ بَعْضُهُمْ إِنَّهُ نَائِمٌ. وَقَالَ بَعْضُهُمْ: إِنَّ الْعَيْنَ نَائِمَةٌ وَالْقَلْبَ يَقْظَانُ. فَقَالُوا: مَثَلُهُ كَمَثَلِ رَجُلٍ بَنَى دَارًا، وَجَعَلَ فِيهَا مَأْدُبَةً، وَبَعَثَ دَاعِيًا، فَمَنْ أَجَابَ الدَّاعِيَ دَخَلَ الدَّارَ وَأَكَلَ مِنَ الْمَأْدُبَةِ، وَمَنْ لَمْ يُجِبِ الدَّاعِيَ لَمْ يَدْخُلِ الدَّارَ وَلَمْ يَأْكُلْ مِنَ الْمَأْدُبَةِ. فَقَالُوا: أَوِّلُوهَا لَهُ يَفْقَهْهَا. قَالَ بَعْضُهُمْ: إِنَّهُ نَائِمٌ. وَقَالَ بَعْضُهُمْ: إِنَّ الْعَيْنَ نَائِمَةٌ وَالْقَلْبَ يَقْظَانُ. فَقَالُوا : فَالدَّارُ الْجَنَّةُ، وَالدَّاعِي مُحَمَّدٌ ﷺ ، فَمَنْ أَطَاعَ مُحَمَّدًا ﷺ فَقَدْ أَطَاعَ اللهَ، وَمَنْ عَصَى مُحَمَّدًا ﷺ فَقَدْ عَصَى اللهَ، وَمُحَمَّدٌ ﷺ فَرْقٌ بَيْنَ النَّاسِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 148
جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چند فرشتے حاضر ہوئے اور آپ نیند میں تھے، انہوں نے کہا کہ تمہارے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ایک مثال ہے اس کو بیان کرو، بعض فرشتوں نے کہا کہ وہ نیند میں ہیں اور بعض نے کہا کہ ان کی آنکھ سو رہی ہے لیکن دل بیدار ہے تو پھر وہ کہنے لگے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے ایک مکان تعمیر کیا اور مکان میں کھانا تیار کیا اور ایک دعوت دینے والے کو بھیجا جس نے دعوت دینے والے کی دعوت کو قبول کیا تو مکان میں داخل ہوا اور کھانا کھایا اور جس نے دعوت قبول نہیں کی تو وہ نہ گھر میں داخل ہوا اور نہ کھانا کھایا، فرشتوں نے آپس میں کہا کہ اس کی وضاحت بیان کرو تاکہ وہ اس کو سمجھیں، بعضوں نے کہا: وہ تو سو رہے ہیں اور بعضوں نے کہا کہ آنکھ نیند میں ہے اور دل بیدار ہے، فرشتوں نے اس مثال کی وضاحت یوں کی کہ وہ مکان جنت ہے اور (بلانے والے) محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں تو جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں فرق کرنے والے ہیں یعنی مومن اور کافر میں فرق کرنے والے ہیں۔ (بخاری نے اس کی روایت کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 7281 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: حضور محمد صلی اللہ علیہ وسلم فرق کرنے والے ہیں کہ فرق کردیا کافر اور مومن میں، حق اور باطل میں، صالح اور ⟦?⟧ میں، کھانے سے مراد بہشت کی نعمتیں ہیں اور شخص سے مراد اللہ تعالیٰ ہیں، یہ دونوں باتیں بالکل ظاہر تھیں اس لئے فرشتوں نے ان کی وضاحت نہیں کی۔12