اردو
ابراہیم نخعی رضی اللہ عنہ سے روایت کی گئی ہے کہ ان سے دریافت کیا گیا کہ جس
کو نماز میں نکسیر پھوٹ پڑے یا اس کا وضوء ٹوٹ جائے (تو اس کو کیا کرنا چاہئے) آپ نے فرمایا کہ وہ
نماز کی جگہ سے ہٹ جائے اور وضوء کر لے (اور وضوء کے لئے آنے جانے میں) ذکر اللہ کے سوا کوئی
کلام نہ کر لے (اور وہ وضوء کے بعد جب) اپنی جگہ واپس آ جائے تو اپنی باقی ماندہ نماز کی تکمیل کر لے
اور جو کچھ نماز وضوء ٹوٹنے کے قبل ادا کی تھی اس کو شمار میں رکھے (اور یہ سمجھے کہ جو نماز پڑھ چکا ہے وہ ادا
ہو چکی ہے اور باقی ماندہ نماز کی تکمیل اسی رکن سے کرے جس رکن پر حدث ہوا ہے اور اگر وضوء کے
لئے آنے جانے میں) بات کرلی تو از سر نو نماز کا اعادہ کرے۔ (اور جو نماز پڑھ چکا تھا اس کا اعتبار نہ
کرے۔) (اس کی روایت امام محمد نے الآثار میں کی ہے۔)
اور ابن ابی شیبہ کی ایک روایت میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جب کسی شخص کو نماز میں نکسیر پھوٹ پڑے یا منہ بھر کر) قے آئے تو
اس کو چاہئے کہ جا کر وضوء کرے اور بات نہ کرے اور (اگر چاہے تو بعد وضوء کے) اپنی پچھلی نماز پر
بناء کرے۔ اس سند کے راوی صحیح کے راوی ہیں۔