Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer

Hadith 1372

(یہ باب ان اعمال کے بیان میں ہے جن کا نماز میں کرنا جائز ہے

In this book

Current reading

Prayer

(یہ باب ان اعمال کے بیان میں ہے جن کا نماز میں کرنا جائز ہے

Zujajat al-Masabih 1372Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1566
عطاء بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نمازوں میں کسی ایک نماز کو تکبیر تحریمہ کہہ کر شروع فرمائے (پھر حدث ہونے پر) اپنے دست مبارک سے صحابہ کو اشارہ فرمایا (جس کا مفہوم یہ تھا کہ ٹھیرے رہو) اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مصلی سے چلے گئے پھر (وضوء فرما کر) ایسی حالت میں واپس ہوئے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی جلد مبارک پر پانی کا اثر تھا پھر آپ نے (بناء کر کے) نماز پڑھائی۔ (یعنی تکبیر تحریمہ کہے بغیر جہاں سے نماز چھوڑی تھی وہیں سے نماز شروع فرما کر نماز کی تکمیل فرمائی۔) اس کی روایت امام محمد نے موطاء میں کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Muwatta Malik 111 (unverified) 30% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف(1) امام محمد رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہم اسی حدیث سے یہ اخذ کرتے ہیں کہ جس کسی کا وضوء نماز کی حالت میں ٹوٹ جائے تو اس کے لئے جائز ہے کہ وہ نماز کی جگہ سے ہٹ جائے اور بات نہ کرے اور وضوء کر کے جو کچھ نماز پہلے پڑھ چکا ہے اسی پر بناء کر کے باقی ماندہ نماز کی تکمیل کرے اور افضل یہ ہے کہ بات کر لے اور وضوء کر کے نماز کو از سر نو شروع سے پڑھے۔ ف(2) ردالمحتار میں لکھا ہے کہ امام کو نماز میں حدث ہو جائے اور پانی مسجد میں موجود ہو تو وہ نمازیوں کو اشارہ سے ٹھہرا کر کسی کو خلیفہ بنائے بغیر نماز کی جگہ سے ہٹ کر وضو کرے اور واپس آ کر بناء کر کے باقی ماندہ نماز کی تکمیل کرے اور اگر پانی مسجد میں موجود نہ ہو تو امام کسی کو خلیفہ بنا کر خود وضوء کے لئے چلا جائے لیکن امام کے لئے خواہ پانی مسجد میں ہو یا مسجد سے باہر ہو نماز میں حدث ہونے پر ہر حالت میں وضوء کے لئے جانے کے واسطے کسی کو خلیفہ بنا لینا افضل ہے۔