العربية
Typed, pending editorial approval
١٤١١ - وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ (رضي الله عنه) قَالَ: ثَلَاثُ سَاعَاتٍ كَانَ رَسُولُ اللهِ ﷺ يَنْهَانَا أَنْ نُصَلِّي فِيهِنَّ، أَوْ نُقْبِرَ فِيْهِنَّ مَوْتَانَا حِيْنَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ بَازِغَةً حَتَّى تَرْتَفِعَ، وَحِينَ يَقُوْمُ قَائِمُ الظَّهِيرَةِ حَتَّى تَمِيلَ الشَّمْسُ ، وَحِينَ تَضَيَّفُ الشَّمْسُ لِلْغُرُوبِ حَتَّى تَغْرُبَ. رَوَاهُ مُسْلِمُ.
وَفِي جَامِعِ الْآثَارِ»: شَمَلَ بِإِطْلَاقِهِ الْأَمْكِنَةَ وَالْأَزْمِنَةَ وَالصَّلَاةَ كُلَّهَا، كَذَا فِي الْمِرْقَاةِ» وَالْهِدِايَةِ». وَفِي رَدَّ الْمُحْتَارِ»: وَمَا وَرَدَ مِنَ النَّهْيِ إِلَّا بِمَكَّةَ شَاةٌ، لَا يُقْبَلُ فِي مُعَارَضَةِ الْمَشْهُورِ، وَكَذَا رِوَايَةُ اسْتِثْنَاءِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ غَرِيبٌ، فَلَا يَجُوْزُ تَخْصِيْصُ الْمَشْهُورِ بِهِ انْتَهَى وَفِي التَّعْلِيقِ الْمُمَجَّدِ: وَالْأَحَادِيثُ الْمُفِيدَةُ لِجَوَازِ التَّنَفُلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَقْتَ الإِسْتِوَاءِ لَا تُسَاوِي أَحَادِيثَ النَّهْيِ مِنْ حَيْثُ السَّنَدِ. انْتَهَى وَفِي الْبِنَايَةِ» عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ : كُنَّا نُهِينَا عَنْ ذَلِكَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ. وَعَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيَّ: أَدْرَكْتُ النَّاسَ وَهُمْ يَنْهَوْنَ عَنْ ذَلِكَ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 831 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
میں نہ پڑھنا پڑے، اس لئے کہ نماز جنازہ پڑھتے ہی میت کو دفن کرتے ہیں۔ اگر ان تینوں ممنوعہ اوقات سے پہلے نماز جنازہ پڑھ لی گئی ہے تو ان تینوں اوقات میں مردوں کو دفن کرنا جائز ہے، منع نہیں ہے۔ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اور اکثر ائمہ کا یہی قول ہے، ترمذی نے بھی اس حدیث کے یہی معنی لئے ہیں، چنانچہ انہوں نے باب قائم کیا ہے ”بَابٌ فِى كَرَاهَةِ الصَّلٰوةِ عَلَى الْجَنَازَةِ عِنْدَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَعِنْدَ غُرُوْبِهَا“ (آفتاب کے طلوع اور غروب کے وقت نماز جنازہ پڑھنے کی کراہت کے بیان میں) (اور اس باب میں اوپر کی اسی حدیث کو نقل کیا ہے، وہ تین اوقات ممنوعہ یہ ہیں): ایک جس وقت کہ آفتاب چمکتا ہوا نکل رہا ہو، یہاں تک وہ بلند ہو جائے۔ دوسرے ٹھیک دوپہر کے وقت یہاں تک کہ آفتاب ڈھل جائے۔ تیسرے جبکہ آفتاب غروب ہونے لگے یہاں تک کہ وہ ڈوب جائے۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔) ف: واضح ہو کہ اس حدیث شریف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تینوں اوقات ممنوعہ میں نماز پڑھنے سے جو منع فرمایا ہے یہ ممانعت مطلقاً ہے یعنی کسی زمانہ یا جگہ اور کسی خاص نماز سے متعلق نہیں، اس لئے ہر زمانہ اور ہر مقام میں تمام فرض اور نفل نمازیں خواہ ادا ہوں یا قضاء، نماز جنازہ ہو یا سجدہ تلاوت، ان سب کا ادا کرنا تینوں اوقات میں ناجائز ہوگا اور اسی مطلقاً ممانعت کی وجہ سے مکہ معظمہ میں بھی ان تین وقتوں میں ان تمام مذکورہ عبادات کا ادا کرنا ایسا ہی ممنوع ہوگا جیسا کہ دوسری جگہوں میں ان عبادات کا ممنوعہ اوقات میں ادا کرنا منع ہے۔ اب رہا یہ کہ بعض حدیثوں سے مکہ معظمہ میں ممنوعہ اوقات میں نمازوں کے پڑھنے کا جائز ہونا جو ثابت ہوتا ہے تو واضح رہے کہ یہ حدیثیں شاذ ہیں اور اوپر کی وہ حدیث جس میں تین اوقات میں نمازوں کا ادا کرنا ممنوع ہے وہ مشہور حدیث ہے، اور مشہور حدیث کے مطلق حکم کو شاذ حدیث سے مقید کر کے مکہ معظمہ کو مستثنیٰ نہیں کیا جا سکتا۔ اوپر کی اس حدیث کے مطلق حکم کی وجہ سے جمعہ کے دن بھی نصف النہار کے وقت نوافل اور مذکورہ عبادات ویسے ہی ممنوع ہیں جیسے دوسرے دنوں میں نصف النہار کے وقت نوافل اور مذکورہ عبادات ممنوع ہیں، جس کی تائید ان دونوں حدیثوں سے ہوتی ہے جن کو صاحب بنایہ نے بیان کیا ہے وہ حدیثیں یہ ہیں:۔