English
Abu Basrah al-Ghifari (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) led them in Asr prayer at Al-Mukhammas and said, "This prayer was presented to those before you, but they neglected it. Whoever observes it will have a double reward. There is no prayer after it until the star appears."
العربية
Typed, pending editorial approval
١٤١٣ - وَعَنْ أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ ، قَالَ : صَلَّى بِنَا رَسُوْلُ اللهِ ﷺ بِالْمُخَمَّصِ صَلَاةَ الْعَصْرِ، فَقَالَ: «إِنَّ هَذِهِ صَلَاةُ عُرِضَتْ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ فَضَيَّعُوْهَا، فَمَنْ حَافَظَ عَلَيْهَا كَانَ لَهُ أَجْرُهُ مَرَّتَيْنِ، وَلَا صَلَاةَ بَعْدَهَا حَتَّى يَطْلُعَ الشَّاهِدُ، وَالشَّاهِدُ : النَّجْمُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 1618
ابوبصرہ غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم نے مقام مُخَمَّص میں ہم کو عصر کی نماز پڑھائی، نماز کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
ارشاد فرمایا کہ یہ عصر کی نماز سابقہ امتوں (یہود اور نصاریٰ) پر بھی پیش کی گئی تھی تو انہوں نے اس کو
جیسا چاہئے تھا ویسا پابندی کے ساتھ ادا نہیں کیا تو جو شخص اس نماز عصر کو پابندی سے پڑھے گا اس کو
دوہرا ثواب ملے گا (ایک ثواب تو نماز پڑھنے کا اور دوسرا ثواب کار و بار چھوڑ کر اس کو پابندی سے
پڑھنے کا ملے گا) اور نماز عصر کے بعد کوئی نفل نماز نہیں ہوتی۔ (اس لئے کہ اس وقت نفل نماز مکروہ
تحریمی ہے، البتہ قضاء نمازیں، نماز جنازہ، اور سجدہ تلاوت عصر کے بعد سے غروب کے پہلے تک ادا ء
کر سکتے ہیں) اور یہ نفل کی ممانعت اس وقت تک ہے جب تک کہ تارۂ نکل کر غروب آفتاب کا پتہ نہ
دے (اور جب آفتاب غروب ہو جاتا ہے تو یہ تو مغرب کے فرض کا وقت ہے، اس لئے مغرب کے
فرض سے پہلے بھی نفل نہیں پڑھنا چاہئے) (اسکی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 830 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.