اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 1620
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ یوں تو سب صحابہ
کرام ثقہ اور عادل ہیں ان میں سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی جو شان ہے وہ مخفی نہیں ہے حضرت عمر
اور دوسرے بعض صحابہ سے میں نے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم نے صبح کی نماز کے بعد
آفتاب ایک نیزہ بلند ہونے تک نفل نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے، اور اسی طرح عصر کے بعد سے
آفتاب کے غروب ہونے تک بھی نفل نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔
(اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 581 (unverified) 99% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 826a (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف۔ جامع الآثار میں لکھا ہے کہ مذکورہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز فجر اور عصر کے فرض کے بعد کوئی نفل نماز نہیں پڑھنا چاہئے اس لئے کوئی شخص فجر کی سنت پڑھے بغیر فجر کی جماعت میں شریک ہو گیا اور سنتوں کو ادا نہ کر سکا تو وہ ان سنتوں کو فجر کے فرض کے بعد آفتاب کے ایک نیزہ بلند ہونے تک نہ پڑھے اس لئے کہ یہ سنتیں بھی نفل ہی کی قسم سے ہیں جن کے ادا کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ اسی طرح اگر کوئی شخص فجر یا عصر کی فرض نماز پڑھ چکا ہے اور اس کو یہ نمازیں دوبارہ جماعت سے مل جائیں تو اب یہ ان میں شریک نہیں ہو سکتا اس لئے کہ یہ نمازیں نفل ہی ہوں گی اور فجر عصر کے فرض کے بعد نفل نماز کا ادا کرنا مکروہ تحریمی ہے۔