English
Mu'awiyah (may Allah be pleased with him) said, "You are praying a prayer that we never saw the Messenger of Allah (peace be upon him) pray, and he prohibited it," referring to the two rak'ahs after Asr.
العربية
Typed, pending editorial approval
١٤١٨ - وَعَنْ مُعَاوِيَةَ (رضي الله عنه) قَالَ: إِنَّكُمْ لَتُصَلُّوْنَ صَلَاةً، لَقَدْ صَحِبْنَا رَسُوْلَ اللهِ ﷺ فَمَا رَأَيْنَاهُ يُصَلِّيْهِمَا، وَلَقَدْ نَهَى عَنْهُمَا ، يَعْنِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 1625
معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انھوں نے کہا کہ آپ لوگ عصر کی فرض
کے بعد دو رکعتیں نماز پڑھتے ہیں حالانکہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت اقدس میں رہے
ہیں اور کبھی ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا بلکہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام
نے ان کو پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔ (اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 587 (unverified) 95% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف۔ واضح ہو کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عصر کے فرض کے بعد کسی وقت بھی نفل نماز ادا فرماتے ہوئے نہیں دیکھا اور اس حدیث سے پہلے والی حدیثیں جو ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا اور ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہیں، ان سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے عصر کی فرض کے بعد نفل نماز پڑھی ہے، بظاہر ان حدیثوں میں تعارض معلوم ہوتا ہے مگر حقیقت میں تعارض نہیں ہے اس لئے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا اس بات سے انکار کرنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عصر کی فرض کے بعد نفل نماز نہیں پڑھی ہے اس لحاظ سے ہے کہ واقعۃً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں یا باہر عصر کی فرض کے بعد نفل نماز نہیں پڑھی ہے جس کی وجہ سے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو دیکھنے کا موقع نہیں ملا۔ اب رہا حضرت عائشہ اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہما کا ارشاد فرمانا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عصر کے فرض کے بعد نفل نماز پڑھی ہے وہ اس لحاظ سے ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ان کے گھروں میں یہ نماز پڑھی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اس نفل کو مسجد میں یا باہر اداء نہ فرمانا اس غرض سے تھا کہ امت اس بارے میں آپ کی اقتداء نہ کرے اور گھر میں اداء فرمانے پر بھی یہ شبہ ہوا کہ کہیں امت اقتداء کرے گی اس لئے ذکوان رضی اللہ عنہ کی حدیث میں صراحت کے ساتھ مذکور ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام عصر کے فرض کے بعد نفل نماز پڑھنے سے منع فرمایا کرتے تھے۔