Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer

Hadith 1421

Chapter on Prohibited Times for Prayer

In this book

Current reading

Prayer

Chapter on Prohibited Times for Prayer

Zujajat al-Masabih 1421Volume 1

English

It is narrated from Umar (may Allah be pleased with him) that he performed Tawaf after the Fajr prayer but did not pray (the two Rak'ahs of Tawaf). He left Makkah and stopped at Dhu Tuwa, where he prayed after the sun had risen.

العربية

Typed, pending editorial approval
١٤٢١ - وَعَنْ عُمَرَ (رضي الله عنه) أَنَّهُ طَافَ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ فَلَمْ يُصَلُّ، وَخَرَجَ مِنْ مَكَّةَ حَتَّى نَزَلَ بِذِي طُوًى، فَصَلَّى بَعْدَ مَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ رَوَاهُ التَّرْمِذِيُّ. وَرَوَى مَالِكُ وَالطَّحَاوِيُّ نَحْوَهُ. وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ تَعْلِيْقًا.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1628Noor 1629
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی گئی ہے کہ حضرت عمر نے نماز فجر کے بعد طواف کیا اور طواف کے بعد جو دو رکعتیں پڑھی جاتی ہیں ان کو آپ نے ادا نہیں کیا، جب مکہ معظمہ سے باہر نکلے اور مقام ذی طویٰ میں پہنچ کر اترے تو آپ نے سورج نکلنے کے بعد طواف کے بعد کی رکعتوں کو اب ادا فرمایا۔ اس کی روایت ترمذی نے کی ہے، اور امام مالک اور امام طحاوی نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔ اور امام بخاری نے بھی اس کی روایت تعلیقاً کی ہے۔
Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مکہ معظمہ میں بھی مثل دیگر مقامات کے فجر کے فرض کے بعد نفل نماز کا ادا کرنا مکروہ تحریمی ہے، اب رہا یہ شبہ کے طواف کی بعد کی رکعتوں کو واجب ہونے کی وجہ سے ان کو فجر کے فرض کے بعد ادا کیا جا سکتا تھا تو اس کا جواب یہ ہے کہ طواف کے بعد کی دو رکعتیں بندہ کے طواف کرنے سے اس پر واجب ہوتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندہ پر یہ متعین جیسا کہ وتر اللہ تعالیٰ کی طرف سے واجب ہے، اس لئے فوت شدہ وتر کو فجر کے فرض کے بعد قضاء کر سکتے ہیں لیکن طواف کی رکعتوں کو اس لئے ادا نہیں کر سکتے کہ یہ بندہ کے فعل سے واجب ہوئی ہیں۔ اس لئے ان کی حیثیت نفل جیسی ہے، اور فجر کے فرض کے بعد نفل نماز کا ادا کرنا مکروہ تحریمی ہے، اسی لئے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے طواف کی رکعتوں کو فجر کے فرض کے بعد ادا نہیں فرمایا۔