Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

كِتَابُ الصَّلَاةِ

Hadith 1473

بَابُ الْمَوْقِفِ

In this book

Current reading

كِتَابُ الصَّلَاةِ

بَابُ الْمَوْقِفِ

Zujajat al-Masabih 1473Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
١٤٧٣ - وَعَنْهُ (رضي الله عنه): أَنَّ جَدَّتَهُ مُلَيْكَةَ دَعَتْ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ لِطَعَامٍ صَنَعَتْهُ، فَأَكَلَ مِنْهُ، ثُمَّ قَالَ: «قُوْمُوْا فَلْنُصَلَّ بِكُمْ». قَالَ: أَنَسٌ : فَقُمْتُ إِلَى حَصِيرٍ لَنَا قَدِ اسْوَدَّ مِنْ طُوْلِ مَا لُبِسَ فَنَضَحْتُهُ بِالْمَاءِ، فَقَامَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ ، وَصَفَفْتُ أَنَا وَالْيَتِيمُ وَرَاءَهُ، وَالْعَجُوْزُ مِنْ وَرَائِنَا، فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ انْصَرَفَ. رَوَاهُ التَّرْمِذِيُّ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 234 (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: اس حدیث شریف میں مذکور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انس رضی اللہ عنہ کی دادی ملیکہ رضی اللہ عنہا کو نماز میں سب کے پیچھے علیحدہ تنہا کھڑا کیا، حالانکہ جماعت میں صف کے پیچھے الگ تنہا کھڑا ہونا مکروہ ہے اور امام احمد رحمہ اللہ کے نزدیک تو مفسد نماز بھی ہے، اس کے باوجود حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ملیکہ رضی اللہ عنہا کو تنہا پیچھے کھڑا کرنے کی بجز اس کے کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی کہ عورت کا نماز میں مردوں یا لڑکوں کے ساتھ صف میں برابر کھڑا ہونا مردوں یا لڑکوں دونوں کی نماز کے لئے مفسد ہے، اگر عورت کا صف میں مردوں یا لڑکوں کے برابر کھڑا ہونا جائز ہوتا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان بڑھیا کو تنہا کھڑا ہونے سے ضرور منع فرماتے جبکہ اس واقعہ میں ملیکہ رضی اللہ عنہا انس رضی اللہ عنہ کی دادی ہیں اور ان کے ساتھ ایک بچہ ہے اور ظاہر ہے کہ یہاں کسی قسم کا خطرہ شہوت بھی نہیں ہے، اس کے باوجود بھی ان بڑھیا کو تنہا کھڑا کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ عورت کا صف میں مردوں یا لڑکوں کے برابر کھڑا ہونا مطلقاً مردوں یا لڑکوں کی نماز کا مفسد ہے۔ (ردالمحتار اور اعلاء السنن)۔