Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer

Hadith 1494

Chapter on Leadership in Prayer (Imamah)

In this book

Current reading

Prayer

Chapter on Leadership in Prayer (Imamah)

Zujajat al-Masabih 1494Volume 1

English

Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) said: "A boy should not lead the prayer until he reaches puberty, and let the best among you call the Adhan." [Narrated by Abdur-Razzaq] In a narration by Al-Athram from Ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him): "A boy who is not subject to legal penalties should not lead the prayer." In Al-Binayah: Al-Khattabi said, "The Hadith of Amr ibn Salamah was weakened by Al-Hasan, and he once said, 'Leave it, it is nothing.' Abu Dawud said, 'It was said to Ahmad: What about the Hadith of Amr?' He said, 'I do not know what this is.' It is astonishing that they did not consider the statements of Abu Bakr, Umar, and the senior companions as evidence, yet they used the action of a six-year-old boy as evidence, who did not even know the obligations of ablution and prayer. How could he lead the prayer? Prohibiting it is more cautious in religion." This is mentioned in Al-Mirqah.
Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: واضح ہو کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت میں ارشاد ہے کہ ”لڑکا بالغ ہونے تک امامت نہ کرے“ چونکہ یہ ارشاد مطلق ہے اور اس میں کسی قسم کی قید نہیں ہے، اس لئے نابالغ لڑکا نہ تو فرض نماز میں امامت کرے اور نہ تو نفل نماز میں۔ چنانچہ عمدۃ الرعایہ میں لکھا ہے کہ نابالغ لڑکے کے امامت نہ کرنے کا جو مطلق حکم ہے، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ لڑکے کی امامت بالغ مرد اور عورتوں کے لئے تمام نمازوں میں جائز نہیں ہے، فرض نمازوں میں لڑکے کی امامت کے جائز نہ ہونے پر ہمارے جمیع ائمہ احناف رحمہم اللہ متفق ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ لڑکا احکام شرعی کا مکلف نہیں ہوتا، اس لئے اس کی فرض نماز بھی نفل ہی سمجھی جائے گی۔ اور اگر بالغ مرد یا عورتیں اس کی اقتداء کریں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ فرض نماز پڑھنے والے نفل نماز پڑھنے والے کی اقتداء کر رہے ہیں، حالانکہ فرض نماز پڑھنے والوں کی اقتداء بالاتفاق نفل نماز پڑھنے والے کے پیچھے جائز نہیں ہے۔ اب رہا تراویح اور دیگر نفل نمازوں میں نابالغ بچے کا امام بننا تو اس بارے میں واضح ہو کہ مشائخ شیخ نے تراویح اور نفل نمازوں میں لڑکے کی امامت کو جائز قرار دیا ہے لیکن ہدایہ میں ہے کہ فتویٰ اس پر ہے کہ لڑکے کی امامت تمام نمازوں میں خواہ فرض ہو یا تراویح ہو، یا نفل جائز نہیں ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ لڑکے کی نفل نماز اور بالغ شخص کی نفل نماز میں بڑا فرق ہے، وہ یہ کہ اگر بالغ شخص نفل نماز شروع کر کے توڑ دے تو اس پر اس نفل کی قضاء لازم ہے، اس کے برخلاف اگر نابالغ بچہ نفل نماز شروع کر کے توڑ دے تو بچے پر اس نفل کی قضا لازم نہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ لڑکے کی نفل بالغ شخص کی نفل نماز کے مقابلہ میں بہت کم درجہ رکھتی ہے۔ اس لئے نابالغ بچہ جس کی نفل نماز کم درجہ کی ہوتی ہے وہ ایسے نفل نماز پڑھنے والوں کی امامت نہیں کر سکتا جن کی نفل نماز کامل درجہ کی ہوتی ہے۔ (یہ پورا مضمون عمدۃ الرعایہ سے ماخوذ ہے)۔