اردو
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ (نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کے ہجرت فرمانے سے پہلے آپ کے حکم سے) جو صحابہ ہجرت کر کے سب سے پہلے مدینہ منورہ پہنچے تو
ان کی امامت سالم رضی اللہ عنہ کیا کرتے تھے جو ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام تھے، سالم
رضی اللہ عنہ کی اقتدا کرنے والوں میں حضرت عمر بن خطاب اور ابوسلمہ رضی اللہ عنہما بھی تھے۔
(اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔)
اور ابراہیم نخعی رضی اللہ عنہ سے ایک روایت میں اس طرح ہے وہ فرماتے ہیں
کہ اس میں حرج نہیں کہ اعرابی (دیہاتی) غلام اور ولد الزنا لوگوں کی امامت کریں جبکہ انھوں نے
قرآن پڑھ لیا ہو۔ اس کی روایت امام محمد نے کتاب الآثار میں کی ہے اور امام محمد نے فرمایا ہے کہ ہم
بھی اسی کے قائل ہیں جبکہ وہ عالم ہو اور نماز کے احکام جانتا ہو اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا بھی یہی قول
ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 7175 (unverified) 98% confidence
- Candidate: Sahih al-Bukhari 692 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف۔ واضح ہو کہ بخاری اور کتاب الآثار دونوں کی مذکورہ روایتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ غلام و دیہاتی اور ولدالزنا تینوں کی امامت فی نفسہ جائز ہے اس لئے کہ بخاری کی روایت میں بغیر کسی قید کے غلام کے امامت کرنے کا ذکر ہے اور کتاب الآثار کی روایت میں جو ”لَا بَأْسَ“ کا ذکر ہے اس سے قدرے کراہت کی طرف اشارہ ہوتا ہے وہ اس احتمال سے ہے کہ شاذ ان تینوں کو تربیت کا موقع نہ ملا ہو جس کی وجہ سے یہ ان پڑھ رہ گئے ہوں مگر یہ احتمال بہت ضعیف ہے۔ اس لئے اس ضعیف احتمال کی وجہ سے غلام، دیہاتی اور ولدالزنا کی امامت کو مکروہ تنزیہی کہا گیا ہے، اگر یہ جماعت میں سب سے زیادہ عالم ہوں تو اس کمزور احتمال کا لحاظ کئے بغیر ان کی امامت کو اولی اور افضل قرار دیا گیا ہے۔12 (عمدۃ الرعایۃ، اعلاء السنن)۔