English
It is narrated from Nafi' that Abdullah ibn Umar (may Allah be pleased with him) used to say: "Whoever prays Maghrib or Fajr and then catches them again with the imam should not repeat them."
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Muwatta Malik 297 (unverified) 30% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: واضح ہو کہ اس حدیث شریف میں مذکور ہے کہ فجر اور مغرب کے فرض ایک مرتبہ پڑھ لینے کے بعد پھر دوبارہ ان نمازوں کو پڑھنا جائز نہیں ہے۔ اب رہی عصر کی نماز تو اس کا بھی یہی حکم ہے، اس کی دلیل یہ ہے کہ بخاری اور مسلم کی روایت جو ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اس میں صبح کے فرض کے بعد جیسے نفل کا جائز نہ ہونا مذکور ہے ایسے ہی عصر کے فرض کے بعد بھی نفل کے جائز نہ ہونے کا ذکر ہے۔ اسی طرح بخاری اور مسلم کی اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اس میں صبح کی نماز کے بعد جماعت میں شریک نہ ہونے کی جیسے ممانعت ہے ویسے ہی عصر کے فرض کے بعد جماعت میں شریک ہونے کی ممانعت ہے، اب رہی یہ بات کہ صدر کی حدیث میں جو نافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اس میں عصر کی نماز کا کیوں ذکر نہیں؟ تو اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے سامنے فجر اور مغرب کا ذکر آیا تھا اس لئے آپ نے صرف ان دونوں ہی کا حکم بتلایا اور اگر حضرت ابن عمر کے سامنے عصر کا بھی ذکر آتا تو اس کا بھی یہی جواب ارشاد فرماتے۔ اب رہا یہ کہ جب مغرب کے بعد نفل پڑھنے کی ممانعت نہیں ہے تو پھر ایسے شخص کو جس نے مغرب کے فرض پڑھ لئے ہوں اس کو دوبارہ جماعت میں نفل کی نیت سے شریک ہونے سے کیوں منع کیا جا رہا ہے؟ تو اس کی وجہ یہ ہے کہ تین رکعت کا نفل کی نیت سے ادا کرنا بتیر (نفل میں تین رکعت ہیں) ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے اگرچہ کہ ایسا شخص امام کے سلام پھیرنے کے بعد ایک رکعت کا اضافہ کرکے نماز کو جفت ہی کیوں نہ کرلے، اس لئے کہ مقتدی پر امام کی متابعت ضروری ہے اور اس صورت میں مقتدی کا امام کی نماز پر زیادتی کرنا لازم آتا ہے اسی وجہ سے نفل کی نیت سے بھی مغرب کی نماز میں دوبارہ شریک ہونا جائز نہیں ہے۔