Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer

Hadith 1574

Chapter on The Night Prayer

In this book

Current reading

Prayer

Chapter on The Night Prayer

Zujajat al-Masabih 1574Volume 1

English

Humaid ibn Abdur-Rahman ibn Awf (may Allah be pleased with him) narrated: "A man from the companions of the Prophet (peace be upon him) said: 'While I was on a journey with the Messenger of Allah (peace be upon him), I said: By Allah, I will observe the Messenger of Allah (peace be upon him) during prayer until I see his actions.' When he prayed Isha – which is Atamah – he lay down for a while at night, then woke up and looked at the horizon. He said: 'Our Lord, You did not create this in vain,' until he reached: 'Indeed, You do not fail in Your promise.' (Quran 3:191-194). Then the Messenger of Allah (peace be upon him) reached for his bed, took a toothstick from it, poured water from a container nearby, and cleaned his teeth. Then he stood and prayed until I thought: 'He has prayed as long as he slept.' Then he lay down until I thought: 'He has slept as long as he prayed.' Then he woke up and did as he had done the first time, saying the same words. The Messenger of Allah (peace be upon him) did this three times before Fajr."

العربية

Typed, pending editorial approval
١٥٧٤ - وَعَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ (رضي الله عنه) قَالَ: إِنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ قَالَ: قُلْتُ - وَأَنَا فِي سَفَرٍ مَعَ رَسُولِ اللهِ ﷺ : وَاللهِ، لَأَرْقُبَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ لِلصَّلَاةِ حَتَّى أَرَى فِعْلَهُ. فَلَمَّا صَلَّى صَلَاةَ الْعِشَاءِ - وَهِيَ الْعَتَمَةُ - اضْطَجَعَ هَوِيًّا مِنَ اللَّيْلِ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ فَنَظَرَ فِي الْأُفُقِ، فَقَالَ: رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلًا حَتَّى بَلَغَ إِلَى: ﴿إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ ، ثُمَّ (آل عمران: (۱۹۱) : ١٩٤) أَهْوَى رَسُولُ اللهِ ﷺ إِلَى فِرَاشِهِ، فَاسْتَلَ مِنْهُ سِوَاكًا، ثُمَّ أَفْرَغَ فِي قَدَرٍ مِنْ إِدَاوَةٍ عِنْدَهُ مَاءًا فَاسْتَنَّ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى، حَتَّى قُلْتُ: قَدْ صَلَّى قَدْرَ مَا نَامَ. ثُمَّ اضْطَجَعَ حَتَّى قُلْتُ: قَدْ نَامَ قَدْرَ مَا صَلَّى، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ ، فَفَعَلَ كَمَا فَعَلَ أَوَّلَ مَرَّةٍ، وَقَالَ مِثْلَ مَا قَالَ. فَفَعَلَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَبْلَ الْفَجْرِ. رَوَاهُ النَّسَائِيُّ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1811
حمید بن عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک صحابی نے فرمایا کہ میں (ایک دفعہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھا (حضور سفر میں ہونے سے حضور کا ہر فعل میری آنکھوں کے سامنے تھا) اس لئے میں نے مصمم ارادہ کر لیا اور دل میں یہ ٹھان لیا تھا کہ آپ کی نماز تہجد کو دیکھوں کہ آپ کس طرح اداء فرماتے ہیں، پھر میں اس پر خود بھی عمل کروں۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عشاء کی نماز اداء فرما لئے تو دیر تک آرام فرماتے رہے پھر بیدار ہوئے اور افق کی طرف نظر فرمائے اور تاروں پر اور آسمان پر جب نگاہ مبارک پڑی تو فرمانے لگے: (3۔ سورہ آل عمران، پ:4، آیت نمبر:191/194) ترجمہ: اے ہمارے پروردگار! آپ نے اس (کارخانہ عالم) کو بے کار اور بے فائدہ (تو) نہیں بنایا، آپ کی ذات عالی (ایسے فعل عبث کرنے سے) پاک ہے (اور یہ کارخانہ خبر دے رہا ہے کہ آخرت میں نیکی کی جزاء اور بدی کی سزا ہونی ہے) تو اے ہمارے پروردگار ہم کو دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھئے۔ اے ہمارے پروردگار جس کو آپ نے دوزخ میں ڈالا اس کو (بہت ہی) ذلیل و رسوا کیا اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔ اے ہمارے پروردگار! ہم نے ایک منادی کرنے والے یعنی پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سنا کہ وہ ایمان کی منادی کر رہے تھے (اور لوگوں کو سمجھا رہے تھے) کہ اپنے پروردگار پر ایمان لاؤ تو ہم ایمان لے آئے۔ بس اے ہمارے پروردگار، ہمارے قصور کو معاف فرمائیے اور ہماری برائیوں کو ہم سے مٹا دیجئے اور نیک بندوں کے ساتھ ہمارا خاتمہ بالخیر کیجئے۔ اور اے ہمارے پروردگار جن جن نعمتوں کے وعدے ہم سے آپ نے اپنے پیغمبروں کے ذریعہ فرمائے ہیں وہ ہم کو نصیب فرمائیے اور قیامت کے دن ہمیں ذلیل و رسوا نہ کیجئے۔ کچھ شک نہیں کہ آپ وعدہ خلافی نہیں کیا کرتے۔ پھر آپ بستر کی طرف جھکے اور بستر کے نیچے سے مسواک کھینچ لئے۔ پھر چھاگل میں سے ایک بڑے کٹورے میں پانی ڈالے اور دانتوں پر مسواک رگڑے (اس کے بعد راوی خاموش ہیں، صاحب
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan al-Nasa'i 1625 (unverified) 55% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

مرقات کہتے ہیں کہ یہاں دو احتمال ہیں: ممکن ہے کہ آپ نے دوبارہ وضوء فرمایا ہو۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ آپ نے سابقہ وضوء ہی سے تہجد ادا فرمائی ہو اس لئے کہ نیند سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وضوء نہیں ٹوٹتا تھا اور یہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خصوصیات سے ہے) پھر آپ کھڑے ہوئے اور نماز تہجد شروع فرمائی۔ کیا کہوں کہ آپ نے کس قدر نماز ادا فرمائی۔ جتنی دیر تک آپ آرام فرما رہے تھے، اتنی ہی دیر تک آپ نے نماز ادا فرمائی پھر آپ لیٹ گئے اور جتنی دیر آپ نے نماز پڑھی تھی اتنی ہی دیر آپ آرام فرماتے رہے اور پھر بیدار ہوئے (ابھی آپ نے جو کچھ سنا ہے) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ سب پھر ادا فرمائے اور وہ سب اذکار بھی پڑھے جن کو آپ نے پہلی بار پڑھا تھا، پھر صبح صادق طلوع ہونے تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تین بار اسی طرح سوتے اور جاگتے رہے اور (یہی عمل فرماتے رہے)۔ (اس کی روایت نسائی نے کی ہے۔)