English
Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) narrated: "When the Prophet (peace be upon him) stood at night for Tahajjud, he would say: 'O Allah, to You is all praise. You are the Sustainer of the heavens and the earth and all that is within them. To You is all praise. You are the Light of the heavens and the earth and all that is within them. To You is all praise. You are the King of the heavens and the earth and all that is within them. To You is all praise. You are the Truth, Your promise is true, the meeting with You is true, Your word is true, Paradise is true, Hell is true, the Prophets are true, Muhammad is true, and the Hour is true. O Allah, to You I have submitted, in You I have believed, upon You I have relied, to You I have turned, for Your sake I have disputed, and to You I have appealed for judgment. Forgive me for what I have sent ahead and what I have left behind, what I have concealed and what I have declared, and for what You know better than I. You are the One who brings forward and delays. There is no god but You, and there is no god besides You.'"
العربية
Typed, pending editorial approval
١٥٩٣ - عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ (رضي الله عنهما) قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ ﷺ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يَتَهَجَّدُ، قَالَ: اللهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ قَيِّمُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، وَلَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ نُوْرُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيْهِنَّ ، وَلَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ مَلِكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيْهِنَّ، وَلَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ الْحَقُّ، وَوَعْدُكَ الْحَقُّ ، وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ، وَقَوْلُكَ حَقٌّ، وَالْجَنَّةُ حَقٌّ، وَالنَّارُ حَقٌّ، وَالنَّبِيُّوْنَ حَقٌّ، وَمُحَمَّدُ حَقٌّ، وَالسَّاعَةُ حَقٌّ.
اللهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ، وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ، وَبِكَ خَاصَمْتُ، وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ، فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 1835
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم جب رات تہجد کی نماز پڑھنے کو اٹھتے تو (نماز تہجد شروع کرنے سے پہلے) یہ دعا پڑھتے۔
اے اللہ! ہر طرح کی تعریف آپ ہی کے لئے سزاوار ہے، آسمانوں زمینوں اور جتنی چیزیں
ان میں ہیں آپ ہی ان سب کے سنبھالنے والے اور ان کا انتظام کرنے والے ہیں۔ اور ہر طرح حمد
آپ ہی کو سزاوار ہے، آسمانوں، زمینوں اور جتنی چیزیں ان میں ہیں سب کے آپ نور ہیں یعنی ان
سب کو عدم کی ظلمت سے نکال کر وجود کا نور عطا کرنے والے آپ ہی ہیں۔ اور ہر طرح کی حمد آپ
ہی کو سزاوار ہے، اور آسمانوں، زمینوں اور جتنی چیزیں ان میں ہیں ان سب کے بادشاہ آپ ہی
ہیں (کوئی آپ کی بادشاہت میں شریک نہیں ہے اور کوئی آپ کی بادشاہت کا انکار کرنے والا نہیں
ہے) اور ہر طرح کی حمد آپ ہی کو سزاوار ہے۔ آپ ہی حق ہیں یعنی آپ ہی موجود اور ثابت ہیں اور
آپ کا وجود لازوال ہے کہ کبھی معدوم نہیں ہونے کا اور آپ کے سوائے سب معدوم ہیں۔ اور آپ
کا وعدہ سچا ہے یعنی آپ نے جو وعدہ اپنے بندگان خاص سے دنیا میں مدد کرنے کا اور آخرت میں
ثواب دینے کا کیا ہے سچا ہے کہ کبھی آپ اس کا خلاف نہیں کرتے، اور آپ سے ملنا یقینی ہے یعنی
دنیا سے دار آخرت کی طرف آنا اور پھر وہاں آپ کا دیدار ہونا برحق ہے۔ آپ جو فرماتے ہیں وہ
بالکل سچ ہوتا ہے کبھی اس کا خلاف نہیں ہوتا۔ اور بیشک جنت کا موجود ہونا اور دوزخ کا موجود ہونا
یقینی ہے۔ سب نبی برحق ہیں (اس لئے ہم سب پر ایمان لائے ہیں)۔ اور حضرت محمد صلی اللہ وآلہ
وسلم سچے نبی ہیں، (اس لئے ہر اگلے اور پچھلے کو آپ پر ایمان لانا ضروری ہے)۔ اور قیامت کا آنا
اور جو اس میں ہونے والا ہے وہ سب حق ہے۔ اے اللہ! میں آپ ہی کا تابعدار ہوں اور آپ ہی
کے سامنے سر نیاز جھکایا ہوا ہوں۔ اے اللہ! میں آپ پر ایمان لایا ہوں۔ اور میں آپ ہی پر توکل
کرتا ہوں یعنی بھروسہ کرتا ہوں اور میں آپ ہی کی طرف رجوع کرتا ہوں (میں نے اپنے نفس کے
لئے کسی سے جھگڑنا چھوڑ دیا ہے) اور جب کبھی جھگڑتا ہوں تو آپ ہی کے لئے اور آپ ہی کے
دین کے لئے آپ ہی کی مدد لے کر جھگڑتا ہوں۔ اے میرے اللہ! میں آپ ہی کو اپنا حاکم سمجھتا
ہوں، دینی اور دنیوی ہر امر کو آپ کے سامنے فیصلے کے لئے پیش کرتا ہوں۔ (واضح ہو کہ یہاں
Qur’an-related source paragraphs
And the saying of Allah, the Almighty: "And remember the name of your Lord." (Quran 73:8)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 1120 (unverified) 99% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 769a (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
گناہوں سے مغفرت کی جو دعا ہے وہ امت کے تعلیم کے لئے ہے، حضور ﷺ کے گناہوں سے معصوم ہونے کی تحقیق نور المصابیح، حصہ دوم صفحہ 376 میں گزر چکی ہے۔12) ” مَا قَدَّمْتُ وَمَا اَخَّرْتُ وَمَا اَسْرَرْتُ وَمَا اَعْلَنْتُ وَمَا اَنْتَ اَعْلَمُ بِهِ مِنِّيْ اَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَاَنْتَ الْمُؤَخِّرُ لَا اِلٰهَ اِلَّا اَنْتَ وَلَا اِلٰهَ غَيْرُكَ “ (اے اللہ میں گناہ نہ کرنا تھا کیا، اب آپ کو میں اپنا حاکم سمجھتا ہوں، آپ کے سوا کوئی گناہ معاف نہیں کرسکتا اس لئے) اس لئے آپ میرے اگلے پچھلے چھپے ہوئے اور ظاہری اور جن کو مجھ سے زیادہ آپ جانتے ہیں، ان سب گناہوں کو آپ ایسا معاف کیجئے کہ میں گناہوں سے ایسا پاک ہوجاؤں جیسے ماں کے پیٹ سے پیدا ہونے کے وقت پاک تھا (یہ اس لئے عرض کررہا ہوں کہ آپ جو کرنا چاہیں اس کو کوئی روکنے والا نہیں) جس کو چاہیں آپ آگے کرسکتے ہیں اور جس کو چاہیں آپ پیچھے ڈال سکتے ہیں، آپ ہی میرے معبود ہیں آپ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)