اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 1878
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ مجھے یہ حدیث
پہونچی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمائے ہیں کہ اگر کوئی شخص (نفل) نماز (بغیر عذر کے)
بیٹھ کر پڑھے تو اس کو کھڑے رہ کر نماز پڑھنے والے کے ثواب کا آدھا ثواب ملے گا (ایک روز) میں
حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا تو کیا دیکھتا ہوں کہ آپ نفل نماز بیٹھے
ہوئے پڑھ رہے ہیں (مجھے بہت تعجب ہوا، کیونکہ حضور کے سب کام افضل طریقہ پر ہوا کرتے ہیں
پھر اگر حدیث صحیح ہے تو آپ کیسے بیٹھے ہوئے نماز پڑھ رہے ہیں، عرب کا طریقہ ہے کہ جب ان کو
کسی بات پر تعجب ہوتا ہے تو جس سے تعجب ہوتا ہے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر دریافت کرتے ہیں اور
اس کو خلاف ادب نہیں سمجھتے) میں (بھی اسی طریقہ کے موافق حضور جب نماز سے فارغ ہوئے تو)
حضور کے سر پر ہاتھ رکھا تو حضور مجھ سے فرمائے: کیا ہے عبداللہ! (کس بات پر تم کو تعجب ہو رہا ہے، میں
عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے یہ حدیث پہنچی ہے کہ آپ فرمائے ہیں کہ (بغیر عذر کے) بیٹھ کر (نفل)
نماز پڑھنے والے کو کھڑے رہ کر نماز پڑھنے کے ثواب کا آدھا ثواب ملتا ہے (اگر یہ صحیح ہے تو پھر
آپ سے ترک افضل کیسے ہوا اس پر مجھے تعجب ہو رہا ہے) حضور فرمائے: ہاں حدیث صحیح ہے (تم
نے جو سنا ہے وہ صحیح ہے کیا تم کو یہ معلوم نہیں کہ) میں تم جیسا نہیں ہوں (بہت سی چیزیں میرا خاصہ
ہیں، اور امت اس میں شریک نہیں، منجملہ ان کے ایک یہ ہے کہ مجھے بلا عذر نفل نماز بیٹھ کر ادا کرنے
میں بھی ویسا ہی ثواب ہے جیسے کھڑے ہو کر نفل ادا کرنے میں ثواب ملتا ہے، بخلاف امت کے ان
کو نفل نماز کھڑے رہ کر پڑھنے میں جو ثواب ملتا ہے بیٹھ کر پڑھنے میں اس کا آدھا ثواب ملتا ہے۔
اسی واسطے قرآن میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے واسطے فرمایا گیا ہے ”وَكَانَ فَضْلُ اللّٰهِ
عَلَيْكَ عَظِيمًا“ اے رسول! ہم آپ کو بہت بڑا فضل عطا فرمائے ہیں۔ (اس حدیث کی روایت
مسلم نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 735a (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.