English
Abdullah (may Allah be pleased with him), who reported that the Prophet (ﷺ) said: "Witr is obligatory for every Muslim." [Narrated by Al-Bazzar]
In a narration by Abdullah ibn Ahmad from his father with his chain: When Mu'adh ibn Jabal arrived in Syria, he found the people of Syria not praying Witr. He said to Mu'awiyah: "Why do I see the people of Syria not praying Witr?" Mu'awiyah asked: "Is it obligatory on them?" Mu'adh replied: "Yes, I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'My Lord has granted me an additional prayer, which is Witr, and its time is between Isha and Fajr.'"
العربية
Typed, pending editorial approval
١٦٥٤ - وَعَنْ عَبْدِ اللهِ ، عَنِ النَّبِيَّ ﷺ: «الْوِتْرُ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ. وَفِي رِوَايَةِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَحْمَدَ، عَنْ أَبِيْهِ بِسَنَدِهِ: أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ قَدِمَ الشَّامَ فَوَجَدَ أَهْلَ الشَّامِ لَا يُؤْتِرُوْنَ، فَقَالَ لِمُعَاوِيَةَ: مَا لِي أَرَى أَهْلَ الشَّامِ لَا يُؤْتِرُوْنَ؟ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: أَوَاجِبُ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ يَقُوْلُ: «زَادَنِي رَبِّي صَلَاةً، وَهِيَ الْوِتْرُ، وَوَقْتُهَا مَا بَيْنَ الْعِشَاءِ إِلَى طُلُوعِ الْفَجْرِ».
اردو
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت
فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ وتر ہر مسلمان پر واجب ہے۔
(اس کی روایت بزار نے کی ہے۔)
اور عبداللہ بن احمد بن حنبل اپنے والد امام احمد سے روایت کرتے ہیں کہ ان
کے والد نے اپنی سند سے روایت کی ہے کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ جب ملک شام کا سفر کئے تھے تو
وہاں دیکھا کہ لوگ وتر نہیں پڑھا کرتے ہیں تو حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہ رضی اللہ
عنہ سے دریافت کیا کہ یہاں کے لوگ وتر کیوں نہیں پڑھتے ہیں؟ حضرت معاویہ نے فرمایا کہ (اس
طرح آپ کے حیرت کے ساتھ دریافت کرنے سے مجھے تعجب ہو رہا ہے) کیا وتر واجب ہے؟ (کہ
جس کے نہ پڑھنے سے آپ اس طرح دریافت کر رہے ہیں)۔ حضرت معاذ نے فرمایا: ہاں بے
شک وتر واجب ہے (اس میں کیا شک ہے؟ وتر واجب ہونے کی دلیل یہ ہے کہ) میں نے رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے، آپ ارشاد فرمایا کرتے تھے کہ میرے رب نے (فرائض پر)
ایک اور نماز زیادہ فرمائی ہے اور وہ وتر ہے (حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس ارشاد سے کہ اللہ تعالیٰ
Commentary and footnotes (1)
Note 1
نے فرائض پر وتر کو زیادہ کیا ہے ثابت ہوتا ہے کہ وتر واجب ہے اس لئے کہ جو چیز جس پر زیادہ ہوتی ہے وہ اسی کی جنس سے ہوتی ہے، یہاں وتر فرائض پر زیادہ ہو رہی ہے، اس لئے وتر واجب ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وتر کو بہت پابندی سے پڑھنا اس سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ وتر واجب ہے، فرائض کے جیسے اوقات بتائے گئے ہیں، ایسے ہی وتر کا ابتدائی اور آخری وقت بھی بتایا گیا ہے کہ) اس کا وقت عشاء کی نماز کے بعد سے شروع ہو کر صبح صادق کے طلوع ہونے تک رہتا ہے۔ (اس سے معلوم ہوا کہ وتر ایک مستقل نماز ہے اور واجب ہے۔)