Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer

Hadith 1659

(اس باب میں یہ بتلایا گیا ہے کہ نماز وتر واجب ہے اور اس کے تین رکعات ایک سلام

In this book

Current reading

Prayer

(اس باب میں یہ بتلایا گیا ہے کہ نماز وتر واجب ہے اور اس کے تین رکعات ایک سلام

Zujajat al-Masabih 1659Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1909
امام مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کو یہ روایت (قابل وثوق طریق سے) پہنچی ہے کہ ایک شخص نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے وتر کے متعلق دریافت کیا کہ کیا وتر واجب ہے؟ تو آپ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیشہ وتر پڑھتے رہے ہیں، اور صحابہ کرام بھی ہمیشہ وتر پڑھا کرتے تھے، چنانچہ وہ بار بار یہ سوال کرتا تھا کہ آیا وتر واجب ہے اور حضرت ابن عمر یہی جواب دیتے جاتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیشہ وتر پڑھتے رہے ہیں، اور صحابہ کرام بھی ہمیشہ وتر پڑھا کرتے تھے۔ (اس کی روایت امام مالک نے موطا میں کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Muwatta Malik 268 (unverified) 30% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 1287 (unverified) 20% confidence

Mishkat (candidate) 1287

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 5

(5) The consistent practice of the Prophet (ﷺ) and the Muslims, especially the companions and successors, is evidence for the obligation of Witr.

Note 3

قوله

(۳) قوله : قد أوتر إلخ : فمواظبته لا سيما مع مواظبة أصحابه والتابعين دليل على وجوب الوتر.

Note 1

ف: اس حدیث شریف میں مذکور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیشہ وتر پڑھتے تھے اور مسلمان بھی ہمیشہ وتر پڑھتے رہے ہیں، اس سے معلوم ہوا کہ وتر پڑھنا مسلمانوں کا طریقہ ہے، اور جو شخص وتر ترک کرتا ہے تو وہ مسلمانوں کے طریقے سے ہٹ کر دوسرا طریقہ اختیار کرتا ہے، جس پر قرآن میں سخت وعید ہے اور جس کام کے ترک کرنے پر وعید آتی ہے اس کام کا کرنا واجب ہوتا ہے، اس لئے وتر واجب ہے، اب رہی یہ بات کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے صراحت کے ساتھ سائل کے جواب میں وتر کے واجب ہونے کو کیوں نہیں بیان کیا؟ تو اس کی وجہ یہ ہے کہ کہیں سائل پنجگانہ نمازوں کی طرح وتر کو فرض نہ سمجھ لے، اس لئے کہ واجب اور فرض میں اصطلاحی فرق ہے ورنہ بلحاظ عمل کے فرض و واجب ایک ہی ہیں۔