العربية
Typed, pending editorial approval
١٦٦٩ - وَعَنْ عَائِشَةَ (رضي الله عنها) ، أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ كَانَ يُصَلِّي جَالِسًا فَيَقْرَأُ وَهُوَ جَالِسٌ، فَإِذَا بَقِيَ مِنْ قِرَاءَتِهِ قَدْرَ مَا يَكُوْنُ ثَلَاثِيْنَ أَوْ أَرْبَعِينَ آيَةً قَامَ وَقَرَأَ وَهُوَ قَائِم، ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ يَفْعَلُ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِكَ. رَوَاهُ مُسْلِمُ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 731a (unverified) 88% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث شریف سے ثابت ہوتا ہے کہ نفل نماز کی کسی رکعت میں کچھ بیٹھنا اور کچھ کھڑا ہونا جائز ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ اگر کوئی شخص نفل نماز بغیر عذر کے بیٹھ کر پڑھ رہا تھا پھر کھڑے ہو کر اس کو پوری کرے تو بالاتفاق جائز ہے اور اگر نفل نماز کھڑے ہو کر پڑھ رہا تھا پھر بغیر عذر کے بیٹھ کر پوری کرے تو نماز جائز ہے مگر مکروہ ہوگی (یعنی ہدایہ۔ رواشح)12 مرقات میں لکھا ہے کہ باب الوتر کو اس حدیث سے مناسبت یہ ہے کہ وتر سے پہلے تہجد کی آخری رکعتوں میں بیٹھ کر قرأت کر کے کھڑے ہو کر پورا کرنا جائز ہے۔