Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer

Hadith 1768

Chapter on The Prayer of the Traveler

In this book

Current reading

Prayer

Chapter on The Prayer of the Traveler

Zujajat al-Masabih 1768Volume 1

English

Ibn Umar (may Allah be pleased with him) said: "I accompanied the Messenger of Allah (ﷺ) during travel, and he never prayed more than two rak’ahs until Allah took his soul. 1 I accompanied Abu Bakr, and he never prayed more than two rak’ahs until Allah took his soul. I accompanied Umar, and he never prayed more than two rak’ahs until Allah took his soul. I accompanied Uthman, and he never prayed more than two rak’ahs until Allah took his soul. Allah says: ‘Indeed, in the Messenger of Allah you have an excellent example.’ (Qur’an 33:21)"

العربية

Typed, pending editorial approval
١٧٦٨ - وَعَنْهُ قَالَ: صَحْبْتُ رَسُولَ اللهِ ﷺ فِي السَّفَرِ فَلَمْ يَزِدْ عَلَى رَكْعَتَيْنِ حَتَّى قَبَضَهُ اللهُ 1، وَصَحِبْتُ أَبَا بَكْرٍ فَلَمْ يَزِدْ عَلَى رَكْعَتَيْنِ حَتَّى قَبَضَهُ اللهُ، وَصَحِبْتُ عُمَرَ فَلَمْ يَزِدْ عَلَى رَكْعَتَيْنِ حَتَّى قَبَضَهُ اللهُ، وَصَحِبْتُ عُثْمَانَ فَلَمْ يَزِدْ عَلَى رَكْعَتَيْنِ حَتَّى قَبَضَهُ اللهُ تَعَالَى، وَقَدْ قَالَ تَعَالَى: ﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ (الأحزاب: (۲۱). رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَابْنُ مَاجَه، وَرَوَى مُسْلِمُ وَأَبُو دَاوُدَ نَحْوَهُ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2042
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ میں سفر میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ رہا۔ آپ (چار رکعت والی فرض نمازوں کو قصر کر کے دو رکعت ادا فرماتے) اور اس پر زیادتی نہیں فرمائے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وفات دیدی، اور میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی رہا ہوں تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بھی اپنی وفات تک سفر میں (چار رکعت والی فرض نماز کو) دو رکعتوں سے زیادہ نہیں پڑھے، اور میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی رہا ہوں تو حضرت عمر بھی سفر میں (چار رکعت والی فرض نماز کو) دو رکعت سے زیادہ نہیں پڑھے۔ پھر میں حضرت عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہا ہوں، آپ بھی اپنے انتقال کے وقت تک (چار رکعت والی فرض نماز کو سفر میں) دو رکعت سے زیادہ نہیں پڑھے۔ اس کے بعد حضرت ابن عمر نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (سورہ احزاب پ 21 ع 3، آیت نمبر:21 میں) ”لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ“، مسلمانو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں تمہارے لئے پیروی کا بہترین نمونہ موجود ہے)۔ (اس حدیث کی روایت بخاری اور ابن ماجہ نے کی ہے اور مسلم اور ابوداؤد نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 689a (unverified) 97% confidence
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1102 (unverified) 90% confidence
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1223 (unverified) 87% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

This indicates the consistency of shortening prayers and its obligation. This is mentioned in Jami’ al-Athar.

(1) "This indicates the consistency of shortening prayers and its obligation. This is mentioned in Jami’ al-Athar."

Note 1

قوله

(۱) قوله: حتى قبضه الله : فيستفاد منه المواظبة على القصر ووجوبه. كذا في «جامع الآثار».

Note 1

ف: واضح ہو کہ صدر کی دونوں حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم چار رکعت والی فرض نمازوں کو ہمیشہ قصر ہی کرتے تھے۔ اور پورے چار رکعت نہیں پڑھتے تھے، اس کی وجہ یہی تھی کہ سفر میں یہ حضرات پورے چار رکعت پڑھنے کو جائز نہیں سمجھتے تھے، اگر پورے چار رکعت کا پڑھنا عزیمت ہوتا اور قصر کرنا رخصت ہوتا تو یہ حضرات کرام قصر پر مداومت نہیں فرماتے، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ سفر میں قصر کرنا واجب ہے اور اگر کوئی قصر نہ کرے تو گنہگار ہوگا (جامع الآثار، اعلاء السنن۔)