English
Umar (may Allah be pleased with him) said: "Travel prayer is two rak’ahs, Eid al-Adha prayer is two rak’ahs, Eid al-Fitr prayer is two rak’ahs, and Friday prayer is two rak’ahs—complete, not shortened, as stated by Muhammad (ﷺ)."
العربية
Typed, pending editorial approval
۱۷۷۱ - وَعَنْ عُمَرَ (رضي الله عنه) قَالَ: صَلَاةُ السَّفَرِ رَكْعَتَانِ، وَصَلَاةُ الْأَضْحَى رَكْعَتَانِ، وَصَلَاةُ الْفِطْر رَكْعَتَانِ، وَصَلَاةُ الْجُمُعَة رَكْعَتَانِ، تَمَامُ غَيْرُ قَصْرٍ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ . رَوَاهُ النَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَه وَابْنُ حِبَّانَ فِي صَحِيحِهِ»، وَرَوَى الطَّحَاوِيُّ نَحْوَهُ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 2046
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زبان مبارک سے میں سنا ہوں کہ سفر میں چار رکعت والی فرض نماز (ابتداء
سے) دو رکعت ہی ہے۔ جیسے عید اضحیٰ کی نماز بھی ابتداء ہی سے دو رکعتیں ہیں۔ ایسا ہی عید الفطر کی نماز
بھی ابتداء ہی سے دو رکعت ہیں، اور اسی طرح نماز جمعہ کے بھی (ابتداء ہی سے) دو رکعت ہیں۔ یہ
چاروں نمازیں اسی طرح دو دو رکعت مقرر کئے گئے ہیں، اور یہ پوری نمازیں ہیں اور اتنی ہی فرض کی
گئی ہیں۔ ایسا نہیں ہوا کہ پہلے کچھ رکعات زیادہ تھے، پھر کم کر کے دو رکعت کر دئے گئے۔ (اس سے
معلوم ہوا کہ سفر میں چار رکعت والی فرض بھی دو رکعت ہی مقرر کئے گئے۔ ایسا نہیں ہوا کہ چار رکعت
تھے بعد میں دو رکعت کر دئے گئے۔ اس لئے سفر میں چار رکعت والی نماز کو دو رکعت ہی پڑھنا چاہئے۔
اگر چار رکعت پڑھے گا تو گنہگار ہوگا)
(اس حدیث کی روایت نسائی اور ابن ماجہ نے کی ہے اور ابن حبان نے اس کی روایت اپنی صحیح
میں کی ہے، اور امام طحاوی نے بھی اس کی روایت اسی طرح کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Ibn Majah 1063 (unverified) 96% confidence
- Candidate: Sunan al-Nasa'i 1420 (unverified) 80% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.