Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer

Hadith 1789

Chapter on Friday (Jumu’ah)

In this book

Current reading

Prayer

Chapter on Friday (Jumu’ah)

Zujajat al-Masabih 1789Volume 1

English

Aws ibn Aws (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘The best of your days is Friday. On it, Adam was created; on it, he died; on it, the Trumpet will be blown; and on it, the Punishment will occur. So increase your prayers upon me on this day, for your prayers are presented to me.’ They asked: ‘O Messenger of Allah, how are our prayers presented to you when you have turned to dust?’ He replied: ‘Allah has forbidden the earth from consuming the bodies of the Prophets.’"

العربية

Typed, pending editorial approval
۱۷۸۹ - وَعَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: "إِنَّ مِنَ افْضَلِ أَيَّامِكُمْ يَوْمُ الْجُمُعَةِ، فِيْهِ خُلِقَ آدَمُ، وَفِيْهِ قُبِضَ، وَفِيْهِ النَّفْخَةُ، وَفِيهِ الصَّعْقَةُ، فَأَكْثِرُوْا عَلَيَّ مِنَ الصَّلَاةِ فِيْهِ؛ فَإِنَّ صَلَاتَكُمْ مَعْرُوْضَةً عَلَيَّ». قَالُوا : يَا رَسُوْلَ اللهِ، وَكَيْفَ تُعْرَضُ صَلَاتُنَا عَلَيْكَ، وَقَدْ أَرِمْتَ؟ قَالَ: يَقُوْلُوْنَ: بَلِيْتَ، قَالَ: «إِنَّ اللهَ حَرَّمَ عَلَى الْأَرْضِ أَجْسَادَ الْأَنْبِيَاءِ». رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَه وَالدَّارِمِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي الدَّعَوَاتِ الْكَبِيْرِ».

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2068
اوس بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم جن دنوں کو افضل سمجھتے ہو منجملہ ان کے جمعہ کا دن بھی ایک افضل دن ہے، جمعہ کے دن ہی آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام کو بنانے کے لئے مٹی کو خمیر کیا گیا اور جمعہ کے دن ہی آپ کی وفات ہوئی اور جمعہ کے دن ہی دوسرا صور پھونکا جائے گا (جس سے تمام عالم پھر زندہ ہوگا) اور جمعہ کے دن ہی پہلا صور پھونکا جائے گا (جس سے تمام عالم فنا ہوگا) (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پھر ارشاد فرمائے کہ جب تم سن چکے کہ) جمعہ افضل دنوں میں سے ہے تو اس دن (افضل عبادات یعنی) مجھ پر درود کی کثرت کیا کرو، کیونکہ جمعہ کے دن درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے (چونکہ جمعہ افضل ایام سے ہے تو اس دن میں حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت مبارک میں درود پڑھنا نہایت مناسب ہے، جمعہ کے دن درود شریف کثرت سے پڑھنے کے لئے اس لئے ارشاد ہو رہا ہے کہ اور دنوں میں فرشتوں کے ذریعہ سے حضور کی خدمت میں درود پیش کیا جاتا ہے مگر) جمعہ کے دن ایک خاص (کشف کا یہ مضمون مرقات میں مذکور ہے۔) کشف کی کیفیت حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ظاہر ہوتی ہے جس کی وجہ سے درود پڑھنے والے کے درود کو حضور بلا واسطہ خود سماعت فرماتے ہیں (جیسے ہدیہ دینے والے کے ہدیہ (جیسا کہ سندھی حاشیہ نسائی میں مذکور ہے۔12) کو ہدیہ لینے والا خود لیتا ہے) صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ ہمارے درود آپ پر کس طرح پیش کئے جائیں گے (اور آپ کو کیسا کشف ہوگا) جبکہ حضور کا جسم مبارک (بعد وصال کے) محفوظ نہ رہے گا۔ (یہ سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ عزّ وجلّ نے انبیاء کے جسم زمین پر حرام کر دیئے ہیں (کہ مٹی انبیاء کے جسم کو نہیں کھاتی بلکہ جسم صحیح و سالم رہتے ہیں)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1047 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sunan al-Nasa'i 1374 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 1085 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 1361 (unverified) 96% confidence

Mishkat (candidate) 1361

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

(ایسا ہی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جسم مبارک بھی زمین پر حرام کر دیا گیا ہے اور آپ کے جسم کی کوئی نظیر عالم برزخ میں نہ ہونے سے اسی جسم مطہر میں روح اقدس واپس کر دی گئی ہے، آپ قبر شریف میں زندہ تشریف فرما ہیں اور کشف جسم مطہر پر ہی ہوتا ہے اس لئے حضور جمعہ کے دن اپنی امت کے درود کو جسم مطہر ہی سے سنتے ہیں، خواہ امتی دنیا کے کسی حصے سے بھی درود پڑھے، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جمعہ کے دن اپنے امتی کے درود کو فرشتہ کے واسطے کے بغیر سن لینا کوئی تعجب کی بات نہیں، جب کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بھی ایسا واقعہ ہوا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ میں جمعہ کا خطبہ دیتے ہوئے ایران کے میدان جنگ میں حضرت ساریہ سپہ سالار کو دیکھے اور ان کو صحیح جنگ کرنے کا اعلان کئے، اس اعلان کو حضرت ساریہ بھی سینکڑوں میل کے فاصلہ سے سن لئے۔ اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو جب سینکڑوں میل دور سے کشف ہوا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بدرجہ اولیٰ امتی کے درود کا خواہ دنیا کے کسی حصے سے بھی ہو کشف ہونا کوئی تعجب کی بات نہیں بلکہ امر یقینی ہے)۔ (اس حدیث کی روایت ابوداؤد، نسائی، ابن ماجہ اور دارمی نے کی ہے اور بیہقی نے بھی اس کی روایت دعوات کبیر میں کی ہے۔)