English
Jabir ibn Abdullah (may Allah be pleased with him) narrated: "A man entered the mosque on Friday while the Messenger of Allah (ﷺ) was delivering the sermon. He began stepping over people’s necks, so the Prophet (ﷺ) said: ‘Sit down, for you have caused harm and delayed others.’"
العربية
Typed, pending editorial approval
۱۸۱۹ - وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ (رضي الله عنه) أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَرَسُوْلُ اللهِ ﷺ يَخْطُبُ، فَجَعَلَ يَتَخَطَّى النَّاسَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ : اجْلِسْ فَقَدْ آذَيْتَ وَآنَيْتَ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 2108
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک صاحب جمعہ کے دن مسجد
میں ایسے وقت آئے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، وہ صاحب لوگوں
کی گردنوں پر سے پھلانگتے ہوئے آگے بڑھنے لگے (یہ دیکھ کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان
سے فرمایا:! وہیں بیٹھ جاؤ (کیا جمعہ کے لئے آنے کا یہ وقت ہے) تم بہت دیر کر کے آئے ہو
(خطبہ شروع ہونے کے بعد بغیر ایذاء (جیسا کہ درمختار اور ردالمحتار میں مذکور ہے۔12) دینے کے
بھی پھلانگ کر آنا ناجائز ہے) تم تو ایذاء دیتے ہوئے پھلانگ کر آ رہے ہو۔ (یہ تو بہت ہی برا ہے،
یوں بھی خطبہ شروع ہونے کے بعد کوئی عمل ہو، ناجائز ہے، پھلانگ کر آنا بھی عمل ہے اس طرح سے
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Ibn Majah 1115 (unverified) 91% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
بھی تم ناجائز کام کر رہے ہو۔ ہاں خطبہ شروع ہونے کے پہلے بغیر کسی کو ایذاء دیئے کہ اگلی صفوں میں خالی جگہ کو پُر کرنے کے لئے پھلانگتے ہوئے جانے میں مضائقہ نہیں، مگر اس کا اندازہ کرنا کہ پھلانگتے ہوئے جانا بغیر ایذاء دیئے کے ہے بہت مشکل ہے، اس لئے پھلانگ کر نہ جائیں بھی تو اچھا ہے) (جیسا کہ درمختار اور ردالمحتار میں مذکور ہے۔12)۔ (اس حدیث کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے۔)