English
Ya’la ibn Shaddad ibn Aws reported: "I attended Friday prayer with Mu’awiyah in Jerusalem. I looked around and saw that most of the people in the mosque were companions of the Prophet (ﷺ), and they were sitting with their legs drawn up (ihtiba) while the Imam was delivering the sermon." [Narrated by Abu Dawud]
Abu Dawud added: "Ibn Umar would sit in ihtiba while the Imam was delivering the sermon, as did Anas ibn Malik, Shurayh, Sa’sa’ah ibn Suhan, Sa’id ibn al-Musayyab, Ibrahim al-Nakha’i, Makhul, Isma’il ibn Muhammad ibn Sa’d, and Nu’aym ibn Salamah. They said: ‘There is no harm in it.’"
العربية
Typed, pending editorial approval
۱۸۲۱ - وَعَنْ يَعْلَى بْنِ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ: شَهِدْتُ مَعَ مُعَاوِيَةَ (رضي الله عنه) بَيْتَ الْمَقْدِسِ، فَجَمَّعَ بِنَا فَنَظَرْتُ، فَإِذَا جُلُّ مَنْ فِي الْمَسْجِدِ أَصْحَابُ النَّبِيِّ ﷺ فَرَأَيْتُهُمْ مُحْتَبِيْنَ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
وَقَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ يَحْتَيْ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ، وَأَنَسُ بْنُ مَالِكٍ وَشُرَيْحُ وَصَعْصَعَةُ بْنُ صُوْحَانَ وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ وَإِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ وَمَكْحُوْلٌ وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ وَنُعَيْمُ بْنُ سَلَامَةَ، قَالَ: لَا بَأْسَ بِهَا.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 2112
یعلی بن شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں معاویہ
رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیت المقدس حاضر ہوا حضرت معاویہ نے ہم کو نماز جمعہ پڑھائی، میں نے دیکھا کہ
مسجد میں جتنے لوگ ہیں ان میں سب سے بڑی تعداد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کرام کی ہے،
میں نے دیکھا کہ امام خطبہ دے رہے تھے اور وہاں جتنے صحابہ کرام موجود تھے وہ سب احتباء کئے ہوئے
بیٹھے ہیں۔ اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔
اور ابوداؤد نے کہا ہے کہ عبداللہ بن عمر، انس بن مالک، شریح، صعصعہ ابن صوحان، سعید بن
المسیب، ابراہیم نخعی، مکحول، اسمعیل بن محمد بن سعد اور نعیم بن سلامہ یہ سب حضرات امام کے خطبہ دینے کی
حالت میں احتباء کئے ہوئے بیٹھا کرتے تھے اور ابوداؤد نے یہ بھی کہا ہے کہ جمعہ کے دن امام کے خطبہ
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 1111 (unverified) 92% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
دینے کے وقت احتباء کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ اسی واسطے عمدۃ الرعایہ میں جامع المضمرات کے حوالے سے لکھا ہے کہ امام کے خطبہ دینے کی حالت میں مصلیوں کے لئے کوئی بیٹھک خاص نہیں ہے، چاہے تو احتباء کئے ہوئے بیٹھے، چاہے چوزانو بیٹھیں، یا جس حالت میں آسانی اور سہولت ہو اس حالت میں بیٹھیں۔ اب احتباء کے معنی سنئے۔ احتباء یہ ہے کہ مصلی پر اس طرح بیٹھے کہ دونوں گھٹنے کھڑے ہوں اور پیروں کے دونوں تلوے زمین پر جمے ہوئے ہوں اور دونوں ہاتھوں سے دونوں گھٹنوں کو گھیرے ہوئے ہو، یا کپڑا کمر سے لے کر گھٹنوں سمیت باندھے اور زمین پر ٹک کر بیٹھے۔