Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer

Hadith 1855

Chapter on The Prayer of the Two Eids

In this book

Current reading

Prayer

Chapter on The Prayer of the Two Eids

Zujajat al-Masabih 1855Volume 1

English

Abu Sa’id al-Khudri (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) would go out on the day of Eid al-Adha and Eid al-Fitr and begin with the prayer. After finishing the prayer, he would stand and face the people while they were seated in their prayer rows. If he needed to send out an army, he would mention it to the people, or if he had any other need, he would order them accordingly. He would say, 'Give charity, give charity, give charity,' and most of those who gave charity were women. Then he would leave. This continued until the time of Marwan ibn al-Hakam. I went out holding Marwan’s hand until we reached the prayer ground. Kathir ibn al-Salt had built a pulpit of clay and bricks. Marwan tried to pull me toward the pulpit, while I pulled him toward the prayer. When I saw what he was doing, I said, 'Where is the beginning with the prayer?' He said, 'No, Abu Sa’id, what you know has been abandoned.' I said, 'No, by the One in whose hand is my soul, you will not bring anything better than what I know,' three times. Then he left."

العربية

Typed, pending editorial approval
١٨٥٥ - وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ (رضي الله عنه) أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ كَانَ يَخْرُجُ يَوْمَ الْأَضْحَى وَيَوْمَ الْفِطْرِ، فَيَبْدَأُ بِالصَّلَاةِ، فَإِذَا صَلَّى صَلَاتَهُ قَامَ فَأَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ وَهُمْ جُلُوسٌ فِي مُصَلَّاهُمْ، فَإِن كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ بِبَعْثٍ ذَكَرَهُ لِلنَّاسِ أَوْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةً بِغَيْرِ ذَلِكَ أَمَرَهُمْ بِهَا، وَكَانَ يَقُوْلُ: «تَصَدَّقُوْا تَصَدَّقُوْا تَصَدَّقُوا»، وَكَانَ أَكْثَرَ مَنْ يَتَصَدَّقُ النِّسَاءُ، ثُمَّ يَنْصَرِفُ فَلَمْ يَزَلْ كَذَلِكَ حَتَّى كَانَ مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ، فَخَرَجْتُ مُخَاصِرًا مَرْوَانَ حَتَّى أَتَيْنَا الْمُصَلَّى، فَإِذَا كَثِيرُ بْنُ الصَّلَتِ قَدْ بَنَى مِنْبَرًا مِنْ طِينٍ وَلَبِنٍ، فَإِذَا مَرْوَانُ يُنَازِعُنِي يَدَهُ كَأَنَّهُ يَجُرُّنِي نَحْوَ الْمِنْبَرِ وَأَنَا أَجُرُهُ نَحْوَ الصَّلَاةِ، فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ مِنْهُ قُلْتُ: أَيْنَ الِابْتِدَاءُ بِالصَّلَاةِ، فَقَالَ: لَا ، يَا أَبَا سَعِيدٍ، قَدْ تُرِكَ مَا تَعْلَمُ. قُلْتُ: كَلَّا ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَا تَأْتُوْنَ بِخَيْرٍ مِمَّا أَعْلَمُ، ثَلَاثَ مِرَارٍ ، ثُمَّ انْصَرَفَ رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2154
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ عیدالفطر اور عیدالاضحی کے دن حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (عیدگاہ کو) جایا کرتے تھے، سب سے پہلے نماز عید پڑھتے اور جب نماز عید سے فارغ ہوجاتے تو لوگوں کی جانب رخ کر کے (خطبہ دینے کے لئے) کھڑے ہو جاتے اور لوگ اس وقت اپنی اپنی جائے نماز پر (خطبہ سننے کے لئے) بیٹھے رہتے تھے۔ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کہیں فوج روانہ کرنے کی حاجت ہوتی تو اس کا تذکرہ حضورؐ صحابہ سے فرما دیتے یا کوئی اور ضرورت ہوتی تو اس کا حکم دیتے اور فرماتے: خیرات کرو، خیرات کرو، خیرات کرو۔ اور خیرات کرنے والوں میں سب سے زیادہ تعداد عورتوں کی ہوتی تھی۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (عیدگاہ سے) واپس ہوتے تھے۔ مروان بن الحکم کے زمانہ تک یہی عمل رہا (کہ نماز عید پہلے ہوتی تھی اور خطبہ بعد میں دیا جاتا تھا اور خطبہ زمین پر کھڑے ہو کر بعد نماز ہوتا تھا اور عیدگاہ میں منبر نہیں بنایا گیا تھا) ابو سعید فرماتے ہیں کہ مروان کے دور حکومت میں مروان کے ساتھ (نہایت اتحاد ظاہر کرنے کے لئے) میں اور مروان ایک دوسرے کے کمر پر ہاتھ رکھے ہوئے عیدگاہ پہنچے، وہاں پہنچنے کے بعد میں کیا دیکھتا ہوں کہ (ایک بات تو خلاف سنت یہ ہوئی ہے کہ) کثیر بن ا لصلت نے عیدگاہ میں مٹی اور خام اینٹوں کا ایک منبر بنا رکھا ہے (خلاف سنت یہ دیکھ کر میں بہت ناراض ہوا۔ پھر دیکھا کہ نماز سے پہلے خطبہ دینے کے لئے مروان منبر کی طرف جا رہا تھا۔ اس کا یہ فعل مجھے بہت ناگوار گزرا) میں اس کو کھینچ کر نماز پڑھانے کے لئے لا رہا تھا اور وہ میرا ہاتھ چھڑا کر منبر کی طرف بڑھ رہا تھا۔ (مروان کی اس کشمکش کو میں دیکھا تو) میں نے مروان سے کہا کہ عید کی نماز پہلے پڑھنا اور خطبہ بعد میں دینا (جو سنت ہے) وہ عمل کہاں گیا۔ مروان نے جواب دیا: نہیں۔ ابو سعید آپ جس بات کو سنت سمجھ رہے ہیں وہ اب متروک ہو گئی ہے، میں نے کہا: ہرگز نہیں۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے (میرے معلومات کے حد تک تم یہ خیر کا کام نہیں کر رہے ہو) جو مسنون طریقہ مجھے معلوم ہے اس سے بہتر کوئی دوسرا طریقہ تم نہیں پیش کر سکتے (آخر یہ سنت کو اٹھانے والی کونسی چیز ہے، تمہارے نفسانی خواہشات سے سنت متروک نہیں ہو سکتی) میں اس جملہ کو (3) بار دہرایا (اور دیکھا کہ وہ اپنی ہٹ سے باز نہیں آ رہا ہے تو ہمارا جو اتحاد تھا وہ سب ختم ہو گیا۔ امر بالمعروف جو میرے ذمہ تھا وہ پورا کر کے) میں اپنی جائے نماز پر آ کر بیٹھ گیا (اس کے سوا میں اور کیا کر سکتا تھا۔ مروان کا یہ فعل مجھے بہت ناگوار گزر رہا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کو اس طرح مٹتے ہوئے مجھ سے نہیں دیکھا جا رہا تھا)۔ (اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 889a (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.