اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 2219
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم سے صحابہ دریافت کئے: یا رسول اللہ قربانی کیا چیز ہے اور اس کی بناء کب سے ہوئی ہے؟
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے کہ (قربانی کی بناء حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کے
زمانے میں پڑی اس لئے) قربانی تمہارے باپ حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کی سنت
ہے، (حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کے بعد تمام شریعتوں میں جاری رہی۔ پھر شریعت اسلام
نے بھی اس کو قائم رکھی) صحابہ عرض کئے: یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قربانی کی بناء کب
سے ہوئی یہ تو ہم کو معلوم ہو گیا۔ مگر یہ نہیں معلوم ہوا) کہ قربانی کرنے میں کیا ثواب ہے؟ حضور ارشاد
فرمائے: قربانی کے جانور کے ہر بال کے بدلے میں ایک ایک نیکی ملتی ہے، صحابہ عرض کئے: حضور!
(شعر یعنی بال تو گائے، بکروں اور بھیڑوں میں ہوتے ہیں ان کے ہر بال کے بدلے میں ایک ایک نیکی
کا ملنا معلوم ہوا۔ مگر مینڈھے اور اونٹ قربانی کرنے میں جو ثواب ہے وہ نہیں معلوم ہوا۔ حضور
(فرمائے: مینڈھوں اور اونٹوں کے بال کو صوف یعنی اون کہتے ہیں) اون کے بھی ہر بال کے بدلے
میں ایک ایک نیکی ملتی ہے۔ مسلمانو! سوچو قربانی کا کیا ثواب ہے ایک ایک بال کے بدلہ ایک ایک
نیکی ملتی ہے کس قدر بال ہیں اور کس قدر نیکیاں ملتی ہیں اس کا کچھ اندازہ کر سکتے ہو، عمر بھر بھی نیکیاں
کرو گے تو (اتنی نیکیاں نہیں کر سکتے۔ قربانی کر کے اتنے بے شمار نیکیاں بہت آسانی سے حاصل
کر لو)۔ (اس حدیث کی روایت امام احمد اور ابن ماجہ نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Ibn Majah 3127 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.