English
Abu al-Dahhak Ubayd ibn Furayz, the freed slave of Banu Shayban, reported: "I asked Al-Bara’, 'Tell me what the Messenger of Allah (ﷺ) prohibited regarding sacrificial animals.' He said, 'The Messenger of Allah (ﷺ) stood, and my hand was shorter than his. He said, "Four are not acceptable: the one-eyed whose blindness is evident, the sick whose illness is evident, the lame whose limp is evident, and the emaciated that has no marrow in its bones."' I said, 'I dislike it if there is a defect in the horn 1 or a defect in the teeth.' 2 He said, 'What you dislike, leave it, but do not forbid it to anyone.'" [Narrated by Nasa’i]
In a narration by Ibn Majah: "I said, 'I dislike it if there is a defect in the ear.' He said, 'What you dislike, leave it, but do not forbid it to anyone.'" Al-Tahawi narrated something similar.
العربية
Typed, pending editorial approval
۱۹۱۰ - وَعَنْ أَبِي الضَّحَاكِ عُبَيْدِ بْنِ فِيْرَوْزَ مَوْلَى بَنِي شَيْبَانٍ قَالَ: قُلْتُ لِلْبَرَاءِ: حَدِّثْنِي عَمَّا نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللهِ ﷺ مِنَ الْأَضَاحِي، قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللهِ ﷺ وَيَدِي أَقْصَرُ مِنْ يَدِهِ، فَقَالَ: «أَرْبَعُ لَا يَجْزِيْنَ الْعَوْرَاءُ الْبَيِّنُ عَوْرُهَا، وَالْمَرِيضَةُ الْبَيِّنُ مَرَضُهَا، وَالْعَرْجَاءُ الْبَيِّنُ ظَلَعُهَا، وَالْكَسِيْرَةُ الَّتِي لَا تَنْقِي». قُلْتُ إِنِّي أَكْرَهُ أَنْ تَكُوْنَ فِي الْقَرْنِ1 نَقْصُ وَأَنْ يَكُوْنَ فِي السِّنَّ 2 نَقْصٌ ، قَالَ : مَا كَرِهْتَهُ فَدَعْهُ وَلَا تُحَرِّمْهُ عَلَى أَحَدٍ. رَوَاهُ النَّسَائِيُّ.
وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ مَاجَه: قَالَ: فَإِنِّي أَكْرَهُ أَنْ يَكُوْنَ نَقْصُ فِي الْأُذُنِ، قَالَ: فَمَا كَرِهْتَ مِنْهُ فَدَعْهُ وَلَا تُحَرِّمْهُ عَلَى أَحَدٍ. وَرَوَى الطَّحَاوِيُّ نَحْوَهُمَا.
اردو
ابوالضحاک عبید بن فیروز مولی بنی شیبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ
فرماتے ہیں کہ میں نے براء رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ مجھے قربانی کے جانوروں کے متعلق
حدیث سنائیے کہ کن جانوروں کی قربانی کرنے سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منع فرمائے ہیں۔
براء رضی اللہ عنہ جواب دئے کہ (حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بھی ایسا ہی دریافت کیا گیا تھا)
اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقت کھڑے ہوئے تھے، آپ اپنی انگلیوں سے اشارہ فرمائے:
(کیا کہوں حضرت کا دست مبارک کیسا تھا۔ حضرت کا دست مبارک ایسا خوبصورت نظر آ رہا تھا
کہ) میرا ہاتھ حضور کے دست مبارک کے سامنے چھوٹا اور حقیر معلوم ہو رہا تھا۔ حضور فرمائے کہ
(چار عیب ہیں ان میں سے کوئی عیب جس جانور میں پایا جائے اس کی قربانی نہ دی جائے):
(1) ایک اس کانے جانور کی قربانی نہ کی جائے جس کا کانا پن ظاہر ہو یعنی ایک آنکھ سے بالکل
دکھائی نہ دے یا اس ایک آنکھ میں آدھے سے زیادہ بینائی نہ ہو۔ (2) دوسرے اور نہ اس بیمار
جانور کی قربانی کی جائے جس کا بیمار ہونا (اس طرح) ظاہر ہو (کہ وہ چارہ نہ کھا سکے)
(3) تیسرے ایسے لنگڑے جانور کی قربانی کی جائے جس کا لنگڑا ہونا (اس طرح) ظاہر ہو (کہ وہ
چل نہ سکے) (4) چوتھے اس دبلے جانور کی بھی قربانی نہ کی جائے جو اتنا دبلا ہو کہ اس کی ہڈی تک
میں گودا نہ ہو۔ (جس کی وجہ سے وہ کھڑا نہ رہ سکتا ہو)۔ براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے
حضور سے عرض کیا کہ میں قربانی میں ایسے جانور کو بھی ناپسند کرتا ہوں جس کے سینگ میں نقص ہو،
یعنی اس کے سینگ ٹوٹ گئے ہوں اور ایسے جانور کو بھی ناپسند کرتا ہوں جس کے دانتوں میں نقص
ہو۔ یعنی اس کے کچھ دانت گر گئے ہیں (اور جتنے گرے ہیں ان سے زیادہ باقی ہیں) اور میں
ایسے جانور کو بھی قربانی کے لئے پسند نہیں کرتا جس کے کان میں نقص ہو یعنی کان کا کچھ حصہ کٹا ہوا
ہو تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جواب دئے کہ جس جانور کو تم قربانی میں پسند نہیں کرتے تو تم اس کو
چھوڑ دو۔ اور دوسرا جانور جو ایسا نہ ہو۔ اس کی قربانی کرلو، یہ تمہارے لئے تقوی کی بات ہے مگر)
دوسروں کو ایسے جانور کے حرام اور ناجائز ہونے کا فتوی نہ دو۔ (اس کی روایت نسائی نے کی ہے۔)
اور ابن ماجہ نے صرف کان کے متعلق روایت کی ہے اور امام طحاوی نے بھی
نسائی اور ابن ماجہ دونوں کی طرح روایت کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Ibn Majah 3144 (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (5)
Note 1
(1) The statement: "A defect in the horn." In Rad al-Muhtar, it is said: "It is permissible to sacrifice a hornless animal, one that naturally has no horns. Similarly, an animal with a broken horn is permissible unless the break reaches the brain."
Note 2
(2) The statement: "A defect in the teeth." In Talkhis al-Habir, it is said: "Al-Qadi al-Husayn narrated from Al-Shafi’i that he said, 'We do not find any prohibition from the Prophet (ﷺ) regarding defects in the teeth.'"
Note 1
(۱) قوله: في القرن : قال في رد المحتار: ويضحي بالجماء، هي التي لا قرن لها خلقة، وكذا العظماء التي ذهب بعض قرنها بالكسر وغيره بلغ الكسر إلى المخ لم يجز. (قهستاني)
Note 2
(۲) قوله: في السن: قال في التلخيص الحبير» ونقل القاضي الحسين عن الشافعي أنه قال: لا نحفظ عن النبي ﷺ في نقص الأسنان شيء، يعني في النهي.
Note 1
ف: واضح رہے کہ قربانی کے جانور کے سینگ، دانت اور کان کے متعلق کچھ احکام تو آپ اس حدیث شریف کے ترجمہ میں سن لئے ہیں، باقی احکام اب سنئے: (1) جس جانور کے پیدائش ہی سے سینگ نہیں اس کی قربانی درست ہے البتہ جس جانور کے پیدائش سے سینگ تو تھے مگر بعد میں بالکل جڑ سے ٹوٹ گئے تو اس کی قربانی درست نہیں۔ (2) جس جانور کے بالکل دانت نہیں، اس کی قربانی درست نہیں۔ (3) جس جانور کے پیدائش ہی سے دو کان نہ ہوں یا صرف ایک کان نہ ہو اس کی قربانی درست نہیں ہے۔ یا ایسا ہی جس جانور کا ایک کان پورا کٹا ہوا ہو اس کی قربانی بھی درست نہیں مگر کان تو ہیں لیکن بالکل ذرا ذرا سے چھوٹے چھوٹے ہیں تو اس کی قربانی درست ہے۔ (رد المحتار)12