Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer

Hadith 1928

Chapter on The Eclipse Prayer

In this book

Current reading

Prayer

Chapter on The Eclipse Prayer

Zujajat al-Masabih 1928Volume 1

English

Ata’ ibn al-Sa’ib reported from his father, who reported from Abdullah ibn Umar (may Allah be pleased with him): "The sun eclipsed during the time of the Messenger of Allah (ﷺ). He stood and almost did not bow, then he bowed and almost did not rise, then he rose and almost did not prostrate, then he prostrated and almost did not rise, then he rose and almost did not prostrate, then he prostrated and almost did not rise. Then he rose and repeated the same in the second rak’ah." [Narrated by Abu Dawud, Nasa’i, Tirmidhi in Al-Shama’il, Al-Hakim, and Al-Tawus with a good chain] Al-Hakim said: "It is authentic, but Bukhari and Muslim did not include it." Shaykh Imam Ibn al-Humam said: "Bukhari included Ata’ alongside Abu Bishr, and Ayyub said he is trustworthy."

العربية

Typed, pending editorial approval
۱۹۲۸ - وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ (رضي الله عنهما) قَالَ: انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُوْلِ اللهِ ، فَقَامَ رَسُولُ اللهِ ﷺ لَمْ يَكَدْ يَرْكَعُ، ثُمَّ رَكَعَ فَلَمْ يَكَدْ يَرْفَعُ، ثُمَّ رَفَعَ فَلَمْ يَكَدْ يَسْجُدُ، ثُمَّ سَجَدَ فَلَمْ يَكَدْ يَرْفَعُ، ثُمَّ رَفَعَ فَلَمْ يَكَدْ يَسْجُدُ، ثُمَّ سَجَدَ فَلَمْ يَكَدْ يَرْفَعُ ، ثُمَّ رَفَعَ وَفَعَلَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ، وَالتَّرْمِذِيُّ فِي الشَّمَائِلِ ، وَالْحَاكِمُ وَالطَّاوُسُ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ. وَقَالَ الْحَاكِمُ: صَحِيحٌ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ. وَقَالَ الشَّيْخُ الْإِمَامُ ابْنُ الْهُمَامِ: وَقَدْ أَخْرَجَ الْبُخَارِيُّ لِعَطَاءٍ مَقْرُوْنًا بِأَبِي بِشْرٍ، وَقَالَ أَيُّوبُ: هُوَ ثِقَةٌ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2246Noor 2247
عطاء بن سائب رضی اللہ عنہ، اپنے والد سائب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ سائب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک زمانہ میں (ایک دفعہ) سورج گہن ہوا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کسوف پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے (کیا کہوں کیسی نماز تھی کہ جب) آپ قیام فرمائے تو قیام میں (اس قدر طویل قرأت فرما رہے تھے) ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ اب رکوع ہی نہ کریں گے، پھر جب آپ رکوع کئے تو رکوع میں اس قدر دیر تک رہے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ حضور رکوع سے اب سر مبارک اٹھائیں گے ہی نہیں، پھر آپ جب رکوع سے سر اٹھائے (اور قومہ کئے) تو قومہ میں اتنی دیر تک رہے، ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اب آپ سجدہ کو جائیں گے ہی نہیں، پھر آپ (دوسرا رکوع کئے بغیر) سجدہ میں چلے گئے اور اس قدر دیر تک سجدہ میں رہے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ آپ سجدہ سے سر اٹھائیں گے ہی نہیں، پھر جب آپ سجدہ سے سر اٹھائے اور جلسہ کئے تو جلسہ میں اس قدر دیر تک رہے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ آپ دوسرے سجدہ کو جائیں گے ہی نہیں، پھر آپ دوسرا سجدہ کئے اور دوسرے سجدہ میں بھی اس قدر دیر تک رہے، ایسا معلوم ہوتا تھا کہ آپ دوسرے سجدہ سے دوسری رکعت کے لئے نہیں اٹھیں گے، پھر آپ سجدہ سے سر مبارک اٹھا کر دوسری رکعت کے لئے کھڑے ہوئے اور دوسری رکعت کے بھی ہر رکن کو پہلی رکعت کی طرح طویل فرماتے رہے (اور دوسری رکعت کو بھی پہلی رکعت کی طرح ایک ہی رکوع سے ادا کئے۔) اس حدیث کی روایت ابوداؤد اور نسائی نے کی ہے اور ترمذی نے اس کی روایت شمائل میں کی ہے، اور حاکم اور طحاوی نے بھی اس کی روایت کی ہے، اور اس حدیث کی سند حسن ہے اور حاکم نے کہا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے اگرچہ کہ بخاری اور مسلم نے اس کی روایت نہیں کی ہے لیکن، امام ابن الہمام نے اپنی تحقیق سے کہا ہے کہ بخاری نے بھی اسی طرح اس کی روایت کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1194 (unverified) 88% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.