English
Anas ibn Malik (may Allah be pleased with him) narrated: "A man complained to the Prophet (ﷺ) about the destruction of wealth and the hardship of his family. The Prophet (ﷺ) supplicated to Allah for rain, but he did not turn his cloak or face the qiblah."
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 1018 (unverified) 95% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
العرف میں مذکور ہے کہ عرب میں مال سے مراد بالعموم اونٹ لئے جاتے ہیں۔12) (جن پر عرب کی زندگی کا دارومدار ہے) ہلاک ہو رہے ہیں، اہل و عیال سخت تکلیف میں ہیں (حضور بارش کے لئے دعا فرمائیں) یہ سن کر بارش آنے کے لئے حضور دعا فرمائے۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت انس اس حدیث میں (دعاء استسقاء کے وقت) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم استقبال قبلہ اور چادر الٹنے کا ذکر نہیں کئے اس سے معلوم ہوا کہ استقبال قبلہ اور چادر الٹنا دعائے استسقاء کے وقت سنت نہیں ہے، اگر یہ دونوں سنت ہوتے تو حضرت انس ان دونوں باتوں کا ضرور ذکر فرماتے، اسی لئے امام ابوحنیفہ رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ چادر الٹنا دعائے استسقاء میں سنت نہیں ہے اگرچہ کہ بعض حدیثوں میں استسقاء میں چادر الٹنے کا ذکر ہے، اگر چادر الٹنا سنت ہوتا تو سب حدیثوں میں اس کا ذکر آتا، بعض حدیثوں میں چادر الٹنے کا ذکر ہونا اور بعض میں نہ ہونا استسقاء میں چادر الٹنے کے سنت ہونے پر دلالت نہیں کرتا، اب رہا استقبال قبلہ یعنی دعائے استسقاء کے وقت قبلہ رو ہونا تو اس بارے میں عمدة القاری میں لکھا ہے کہ اگر دعائے استسقاء آبادی میں ہو رہی ہو تو استقبال قبلہ اور چادر الٹنا دونوں دعائے استسقاء کے وقت متفقہ طور پر ثابت نہیں ہیں، اگر صحرا میں آبادی کے باہر دعائے استسقاء ہو رہی ہو تو چادر الٹنا اور استقبال قبلہ صاحبین کے پاس سنت ہے، (جیسا کہ رد المحتار میں مذکور ہے۔12) مقتدی طویل رواء نہ کریں صرف قبلہ رو ہو کر بیٹھیں اور دعاء کے وقت آمین کہتے رہیں، اور امام ابوحنیفہ رحمة اللہ علیہ سے صحرا میں دعائے استسقاء کرتے وقت قبلہ رو ہونے کے متعلق باوجود تحقیق کے کوئی روایت نہیں ملی۔) اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔