English
Al-Bara' ibn 'Azib (may Allah be pleased with him) narrated: "The Prophet (ﷺ) commanded us with seven things and forbade us from seven. He commanded us to visit the sick, to follow funeral processions, to respond to the sneezer, to return greetings, to accept invitations, to fulfill oaths, and to support the oppressed. He forbade us from gold rings, silk, brocade, fine silk, red cushions, silver vessels, and drinking from silver vessels. In another narration, he forbade drinking from silver, for whoever drinks from it in this world will not drink from it in the Hereafter."
العربية
Typed, pending editorial approval
١٩٧٥ - وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبِ (رضي الله عنه) قَالَ: أَمَرَنَا النَّبِيُّ ﷺ بِسَبْعٍ وَنَهَانَا عَنْ سَبْعٍ، أَمَرِنَا بِعِيَادَةِ الْمَرِيضِ وَاتَّبَاعِ الْجَنَائِزِ وَتَشْمِيْتِ الْعَاطِسِ وَرَدَّ السَّلَامِ وَإِجَابَةِ الدَّاعِي وَإِبْرَارِ الْمُقْسِمِ وَنَصْرِ الْمَظْلُوْمِ. وَنَهَانَا عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ وَعَنِ الْحَرِيرِ وَالْإِسْتَبْرَقِ وَالدِّيْبَاجِ وَالْمِيثَرَةِ الْحَمْرَاءِ وَالْمَسِيِّ وَآنِيَةِ الْفِضَّةِ. وَفِي رِوَايَةٍ وَعَنِ الشَّرْبِ فِي الْفِضَّةِ، فَإِنَّ مَنْ شَرِبَ فِيْهَا فِي الدُّنْيَا لَمْ يَشْرَبُ فِيهَا فِي الْآخِرَةِ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor grouped label
5/2303-2304۔ براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم کو سات کام کرنے کا حکم دیئے ہیں اور سات کام کرنے سے منع
فرمائے ہیں، جن سات کاموں کے کرنے کا حکم دیئے ہیں، وہ یہ ہیں:
(1) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم کو حکم دیئے ہیں کہ ہم بیمار کی بیمار پرسی کیا کریں (2) اور
جب کوئی مسلمان مر جائے تو اس کے جنازے کے ساتھ جا کر نماز جنازہ ادا کریں (دفن کرنے میں
بھی شریک رہیں تو نہایت مناسب ہے) (3) اور جب چھینکنے والا چھینکے (اور آواز سے ”الْحَمْدُ
لِلّٰهِ“ کہے) تو اس کا جواب ”يَرْحَمُكُمُ اللّٰهُ“ سے دیں (4) جب کسی مسلمان سے ملاقات ہو (تو
اس کو سلام کریں اور اگر وہ سلام کرے) تو اس کے سلام کا جواب دیں (5) اگر کوئی مسلمان دعوت
دے تو اس کی دعوت قبول کریں (6) اگر کوئی مسلمان قسم کھائے تو اس کی قسم پوری کرنے کے لئے اس
مسلمان کی مدد کریں (مثلاً کوئی شخص قسم کھائے کہ میں یہاں سے نہیں اٹھوں گا جب تک آپ میرا
مقصد پورا نہ کر دیں اگر اس کا مقصد خلاف شریعت نہ ہو اور کوئی گناہ کا کام نہ ہو تو اس کا مقصد پورا
کر دو تا کہ اس کی قسم پوری ہو جائے، اگر اس کا مقصد پورا نہ کرو گے تو وہ انتظار کر کے اٹھ جائے گا
اس کی قسم ٹوٹ جائے گی اور اس کو کفارہ دینا پڑے گا، ورنہ وہ گنہگار ہوگا اس لئے یہ نوبت نہ آنے دو)
اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ بھی حکم دیئے ہیں کہ اگر کسی پر ظلم ہو رہا ہو (تو جس طرح تم سے
ہو سکے) اس کی مدد کرو (اگر زبان سے مدد کی جائے تو اس سے ظلم دور ہو سکتا ہو تو زبان سے مدد کرو،
اگر اس مظلوم کا ظلم ہاتھ سے مدد کرنے سے دور ہو سکتا ہو تو ہاتھ سے مدد کرو، بہرحال کسی طرح اس
مظلوم کو ظلم سے بچاؤ)۔
اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جن سات کاموں کے کرنے سے منع فرمائے ہیں، وہ یہ ہیں:
(1) (مرد کو چاہئے کہ) سونے کی انگوٹھی نہ پہنا کرے (اس لئے کہ مرد کو سونا پہننا حرام ہے،
ہاں عورتیں سونے کی انگوٹھی پہن سکتی ہیں، ان کو سونا پہننے کی اجازت ہے) (2) (مرد کو چاہئے کہ) وہ
کسی قسم کا ریشمی کپڑا نہ پہنے اور نہ استعمال کرے جس کا تانا یعنی کھڑا (الانا بانا) اور بانا (یعنی آڑا تار)
ریشم کا ہو (ایسا ہی وہ کپڑا بھی نہ پہنے اور نہ استعمال کرے جس کا تانا سوت کا ہو اور بانا ریشم کا ہو، اس
لئے کہ کپڑے کی تکمیل بانے سے ہوتی ہے، ہاں اگر تانا ریشم کا ہو اور بانا سوت کا جیسے مشرو ع تو یہ مرد کو
بھی جائز ہے۔ بخلاف اس کے عورتوں کو ہر قسم کا ریشمی کپڑا پہننا اور استعمال کرنا جائز ہے، یوں تو مرد کو
ہر قسم کا ریشمی کپڑا حرام ہے خاص کر (3) استبرق جو ریشم کا بنا ہوا دبیز کپڑا ہوتا ہے، ایسا ہی (4)
دیباج بھی مرد کے لئے حرام ہے جو باریک ریشمی تاروں کا مہین کپڑا ہوتا ہے (جیسے ریشمی لباس پہننا
مرد کو حرام ہے) ایسے ہی (5) زین پوش یعنی چار جامہ جو ریشم سے بنایا گیا ہو، اس پر بیٹھنا حرام ہے
(خواہ کسی رنگ کا ہو اور حدیث شریف میں سرخ رنگ کا جو ذکر ہے وہ عام رواج کے اعتبار سے ہے،
بخلاف اس کے چار جامہ ریشم کا نہ ہو بلکہ سوت کا ہو تو اس پر بیٹھنا جائز ہے، اگر چار جامہ سوت کا ہو مگر
سرخ رنگ کا ہو تو اس پر بیٹھنا مکروہ ہے اس وجہ سے کہ عجمیوں کی عادت ہے کہ ریشمی چار جامہ اور
سوت کے سرخ چار جامہ پر بیٹھتے ہیں جس سے رعونت اور تکبر ظاہر ہوتا تھا اس وجہ سے اس طرح کے
چار جامہ سے بھی منع کیا گیا)۔ (6) ایسے ہی مرد کو قسی کا کپڑا پہننا بھی حرام ہے جو مصعولی اور ردی قسم
کے ریشم سے بنایا جاتا ہے (عورتیں جس قدر چاہیں سونے اور چاندی کا زیور پہن سکتی ہیں، عورتوں
کے لئے سونا اور چاندی پہننا جائز ہے مگر استعمال کا جو سامان ہے مثلاً برتن یا آئینہ یا سرمہ دانی اور
سلائی یا پاندان وغیرہ ان کا استعمال کرنا جیسے مردوں کو حرام ہے ایسے ہی عورتوں کے لئے بھی حرام
ہے) (7) سونے اور چاندی کے برتن میں کھانا بھی حرام ہے (غرض مرد ہوں یا عورتیں چاندی
سونے کے کسی سامان کو استعمال نہ کریں) جو دنیا میں چاندی یا سونے کے برتنوں میں کھائے گا (تو
جب اور مسلمانوں کو آخرت میں چاندی اور سونے کے برتن ملیں گے) تو ایسے شخص کو جو دنیا میں
چاندی سونے کے برتنوں میں کھایا پیا ہے وہ ان برتنوں سے محروم ہوگا۔
(اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 1239 (unverified) 98% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 2066a (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.