Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Funerals

Hadith 2004

Chapter on Visiting the Sick and the Reward of Illness

In this book

Current reading

Funerals

Chapter on Visiting the Sick and the Reward of Illness

Zujajat al-Masabih 2004Volume 1

English

Amir al-Ram (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) mentioned illnesses and said: "When a believer is afflicted with an illness and then Allah restores him to health, it serves as an expiation for his past sins and a reminder for him in the future. As for the hypocrite, when he falls ill and then recovers, he is like a camel that its owners tie and then release, and it does not know why it was tied or why it was released." A man said: "O Messenger of Allah, what are illnesses? By Allah, I have never been ill." The Prophet (ﷺ) said: "Leave us, for you are not one of us"

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٠٠٤ - وَعَنْ عَامِرٍ الرَّامِ(رضي الله عنه) قَالَ : ذَكَرَ رَسُولُ اللهِ وَ الْأَسْقَامَ، فَقَالَ: «إِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا أَصَابَهُ السَّقَمُ ثُمَّ عَافَاهُ اللهُ عَزَّوَجَلَّ مِنْهُ كَانَ كَفَّارَةً لِمَا مَضَى مِنْ ذُنُوْبِهِ، وَمَوْعِظَةً لَهُ فِيمَا يَسْتَقْبِلُ، وَإِنَّ الْمُنَافِقَ إِذَا مَرِضَ ثُمَّ أُعْنِي، كَانَ كَالْبَعِيرِ عَقَلَهُ أَهْلُهُ، ثُمَّ أَرْسَلُوهُ، فَلَمْ يَدْرِ لِمَ عَقَلُوْهُ وَلَمْ يَدْرِ لِمَ أَرْسَلُوْهُ، فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا الْأَسْقَامُ؟ وَاللَّهِ، مَا مَرِضْتُ قَطُّ فَقَالَ: «قُمْ عَنَّا فَلَسْتَ مِنَّا». رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2336
عامر الرام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ (ایک دن) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیماریوں کا ذکر فرما رہے تھے (اثنائے ذکر میں بیماریوں کی فضیلت اس طرح بیان فرمائے) کہ جب کوئی مسلمان بیمار ہو جاتا ہے اور بیماریوں کی سختی جھیلنے کے بعد اس کو شفاء ہو جاتی ہے تو اس بیماری سے اس کے گزشتہ گناہ مٹا دئے جاتے ہیں اور اس کو نصیحت ہوتی ہے، آئندہ کے لئے (کہ گناہوں کی شامت سے بیماریاں آئی تھیں اللہ کا شکر ہے کہ بیماری سے شفاء ہوگئی اور گناہ مٹا دئے گئے، آئندہ مجھے گناہ نہ کرنا چاہئے مسلمان کو اللہ تعالیٰ کا خوف ہوتا ہے اس لئے وہ اس طرح کی نصیحت لیتا ہے) بخلاف منافق کے (کہ اس کو اللہ تعالیٰ کا خوف نہیں) جب وہ بیمار ہو کر اچھا ہو جاتا ہے تو اس کی مثال اس اونٹ کی طرح ہے کہ جس کو اس کے مالک نے باندھ کر پھر چھوڑ دیا ہو، وہ نہیں جانتا کہ اس کو کس لئے باندھا تھا اور کس لئے اس کو چھوڑ دیا) (ایسے ہی منافق کو خبر ہی نہیں کہ کیوں بیمار کیا گیا اور کیوں شفاء دی گئی، نہ گزشتہ گناہوں پر نادم ہوتا اور نہ آئندہ کے لئے اس کو نصیحت ہوتی ہے سامعین میں سے) ایک شخص نے کہا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (آپ بیماری کی فضیلت تو بیان فرما رہے ہیں مگر) مجھے خبر نہیں کہ بیماری کیا چیز ہے، خدا کی قسم میں کبھی بیمار نہیں ہوا (حضور کو کشف نبوت سے معلوم ہوا کہ وہ منافق ہے اس لئے) ارشاد فرمایا: تم ہمارے پاس سے اٹھ جاؤ، معلوم ہوتا ہے کہ تم مسلمان نہیں ہو (بیماری کی میں نے جو فضیلت بیان کی تم اس کا مذاق اڑا رہے ہو، مسلمان کی یہ شان نہیں ہوتی۔) اس حدیث کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 3089 (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.