Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Funerals

Hadith 2074

Chapter on What Should Be Said at the Time of Death

In this book

Current reading

Funerals

Chapter on What Should Be Said at the Time of Death

Zujajat al-Masabih 2074Volume 1

English

Umm Salamah (may Allah be pleased with her) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "No Muslim is afflicted with a calamity and says what Allah has commanded him to say—'Indeed, we belong to Allah, and indeed, to Him we will return. O Allah, reward me in my affliction and replace it for me with something better'—except that Allah will replace it for him with something better." When Abu Salamah (may Allah be pleased with him) died, she said, "Which Muslim is better than Abu Salamah, the first household to migrate to the Messenger of Allah (ﷺ)?" Then she said the supplication, and Allah replaced him for her with the Messenger of Allah (ﷺ).

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٠٧٤ - وَعَنْهَا (رضي الله عنها) قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «مَا مِنْ مُسْلِمٍ تُصِيبُهُ مُصِيبَةٌ، فَيَقُوْلُ مَا أَمَرَهُ اللَّهُ بِهِ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ اللَّهُمَّ أُجُرْنِي فِي مُصِيبَتِي وَأَخْلِفُ لِي خَيْرًا مِنْهَا إِلَّا أَخْلَفَ اللَّهُ لَهُ خَيْرًا مِنْهَا، فَلَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ قُلْتُ: أَيُّ الْمُسْلِمِينَ خَيْرٌ مِنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَوَّلُ بَيْتٍ هَاجَرَ إِلَى رَسُولِ اللهِ ، ثُمَّ إِنِّي قُلْتُهَا فَأَخْلَفَ اللَّهُ لِي رَسُوْلَ اللهِ ﷺ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2409
ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ اگر کسی مسلمان پر کوئی مصیبت آئے اور وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے موافق ”اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ“ (ہم تو اللہ ہی کے ہیں، ہم ہمارا مال اور ہمارے اہل و عیال سب اللہ ہی کے ملک ہیں، وہ ہم کو جس حال میں رکھے اس کو اختیار ہے، اور وہ جو تصرف چاہے کرسکتے ہیں، یہ تصرف ایسا ہی ہے جیسے مالک کو اپنے ملک میں تصرف کرنے کا حق ہوتا ہے، اگر کوئی نقصان پہنچے تو ہم کو اس نقصان کی وجہ سے نہ کسی شکایت کا حق ہے اور نہ رنج کرنے کا اور پھر پہلے اور بعد کا فرق ہے وہ چیز پہلے گئی ہے اور ہم کو بھی ایسے ہی اس کے بعد اللہ ہی کی طرف جانا ہے، اس لئے کوئی رنج کا موقع نہیں) یہ مذکورہ آیت پڑھ کر اس طرح کرے: الٰہی! (مجھ پر ناقابل برداشت مصیبت آئی ہے میں اس مصیبت پر آپ کے لئے صبر کرتا ہوں) مجھے اس مصیبت پر صبر کرنے کا اجر و ثواب دیجئے اور جو چیز مجھ سے جدا ہوگئی ہے مجھے اس کا نعم البدل عطا فرمائیے۔ (اس سے بہتر نعمت عطا کیجئے) تو اللہ تعالیٰ مصیبت پر اس کو ثواب دیتے ہیں اور جو چیز جدا ہوگئی ہے اس کا نعم البدل بھی ضرور عطا فرماتے ہیں (ام المؤمنین فرماتی ہیں کہ یہ حدیث مجھے یاد تھی اور) جب (میرے شوہر) ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوگیا (کیا کہوں اس وقت مجھ پر کیسی مصیبت ٹوٹ پڑی ایسے وقت مجھے یہ حدیث مذکور یاد آگئی، میں چاہتی تھی کہ اس حدیث میں جو دعاء مذکور ہے وہ دعاء کروں لیکن میرے دل میں پھر خیال آیا کہ ابوسلمہ بہترین مسلمان تھے ان کا کوئی نظیر نہیں) سب سے پہلے یہ ہجرت کرکے مدینہ منورہ آئے اب ان کا نعم البدل مجھے کون ملے گا پھر خدائے تعالیٰ مجھے اس مذکورہ دعاء کرنے کے ارادہ پر عزم عطا فرمایا، اور میں مذکور الصدر دعاء کی (کہ الٰہی) میں آپ کے نبی کے حکم کی تعمیل کرتی ہوں میرے شوہر کے انتقال کرنے سے مجھ پر جو مصیبت آئی ہے مجھے اس کا ثواب دیجئے اور میرے شوہر کا نعم البدل عطا فرمائیے) تو میں انتظار کررہی تھی میرے شوہر کا نعم البدل مجھے کون ملے گا نہ شان نہ گمان کہ) اللہ تعالیٰ نے ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کا نعم البدل (مجھے اس طرح) عطا فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے پیام بھیجا اور مجھ سے نکاح کرلیا۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 918a (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.