Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Funerals

Hadith 2101

(اس باب میں جنازہ کے ساتھ کیسے چلنا اور جنازہ پر نماز کس طرح ادا کرنا چاہئے،

In this book

Current reading

Funerals

(اس باب میں جنازہ کے ساتھ کیسے چلنا اور جنازہ پر نماز کس طرح ادا کرنا چاہئے،

Zujajat al-Masabih 2101Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2449
ابن سخبرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ ہم حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک جنازہ کے انتظار میں بیٹھے ہوئے تھے تو ہمارے سامنے سے ایک دوسرا جنازہ گزرا اور ہم اس جنازہ کو آتا ہوا دیکھ کر کھڑے ہوگئے تو حضرت علیؓ ہم سے فرمائے کہ جنازہ کو آتا ہوا دیکھ کر کیوں کھڑے ہوگئے، تو میں نے عرض کیا کہ، ہماری نظر صحابہ کرام پر رہتی ہے، جیسے وہ حضرات کرتے ہیں ہم بھی ایسا ہی کرتے ہیں، صحابہ کرام کو ہم نے دیکھا ہے کہ وہ جنازہ کو آتا ہوا دیکھ کر کھڑے ہوا کرتے ہیں، اس لئے، ہم بھی کھڑے ہوگئے ہیں، چنانچہ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کا یہ ارشاد ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ جب تم کسی مسلم یا یہودی یا نصرانی کے جنازہ کو آتا ہوا دیکھو تو کھڑے ہوجایا کرو، اس لئے کہ تم جنازہ (کی تعظیم) کے لئے نہیں کھڑے رہے ہو بلکہ جنازہ کے ساتھ جو فرشتے رہتے ہیں ان (کی تعظیم) کے لئے کھڑے ہوتے ہو (یہ ابو موسیٰ صحابی ہیں ان کے اس ارشاد کو سن کر ہم کھڑے ہوئے ہیں) یہ سن کر حضرت علی رضی اللہ عنہ فرمائے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو ایک مرتبہ جنازہ کو آتا ہوا دیکھ کر کھڑے ہوئے تھے (اور جنازہ کو دیکھ کر فرشتوں کی تعظیم کے لئے کھڑے ہونے کا حکم دے تھے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ جب تک کسی بارے میں صریح حکم نازل نہ ہو، آپ اہل کتاب کی مشابہت اختیار فرما لیا کرتے تھے اور جس امر میں اہل کتاب کی مشابہت اختیار کرنے سے ممانعت
Commentary and footnotes (1)

Note 1

ہوجاتی تھی، اس کو آپ ترک فرما دیتے تھے (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جنازہ کو دیکھ کر کھڑے ہونا اہل کتاب کی مشابہت سے تھا کہ اہل کتاب جنازہ کو دیکھ کر کھڑے ہو جایا کرتے تھے، پھر جب آپ کو جنازہ دیکھ کر کھڑے ہونے کی ممانعت کی گئی تو باوجود یہ کہ اس میں فرشتوں کی تعظیم تھی مگر ممانعت کی وجہ سے آپ جنازہ کو دیکھ کر کھڑے ہونا ترک فرما دئے، اس لئے جنازہ دیکھ کر کھڑے ہونا منسوخ ہوگیا۔) اس حدیث کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔