Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Funerals

Hadith 2106

(اس باب میں جنازہ کے ساتھ کیسے چلنا اور جنازہ پر نماز کس طرح ادا کرنا چاہئے،

In this book

Current reading

Funerals

(اس باب میں جنازہ کے ساتھ کیسے چلنا اور جنازہ پر نماز کس طرح ادا کرنا چاہئے،

Zujajat al-Masabih 2106Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2459
ابراہیم نخعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں) آپ کی وفات تک صحابہ کرام کا یہ عمل رہا ہے کہ بعض صحابہ نماز جنازہ پانچ تکبیرات کے ساتھ ادا فرماتے اور بعض چھ تکبیرات کے ساتھ اور بعض چار تکبیرات کے ساتھ نماز جنازہ ادا فرماتے تھے، پھر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں بھی اسی طرح اختلاف رہا کہ بعض صحابہ پانچ تکبیرات کے ساتھ بعض صحابہ چھ تکبیرات کے ساتھ اور بعض چار تکبیرات کے ساتھ نماز جنازہ ادا فرماتے تھے، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا دور خلافت آیا تو (دور فاروقی میں بھی) اسی طرح اختلاف کے ساتھ نماز جنازہ ادا، ہوتی رہی، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ (صحابہ کرام کو جمع فرمائے) اور ان سے کہے کہ آپ حضرات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب ہیں، اگر آپ نماز جنازہ کی تکبیرات میں ایسا ہی اختلاف کرتے رہیں گے تو آپ کے بعد آنے والے مسلمان بھی اسی طرح نماز جنازہ کی تکبیرات میں اختلاف کرتے رہیں گے، لوگ ابھی ابھی جاہلیت کے دور سے گزر کر اسلام کی روشنی میں آئے ہیں، ابھی ان کے ذہنوں میں اختلافات کا اثر باقی ہے (ایسا ہی ان کو نماز جنازہ کی تکبیرات میں اختلاف کرتا ہوا چھوڑنا مناسب نہیں) اس لئے آئیے آپس میں مشورہ کر کے کسی ایک بات پر اتفاق کر لیں، ہمارے بعد آنے والے لوگ بھی ہمارے اتفاق کرنے کی وجہ سے آپس میں اتفاق کر لیں گے، آؤ دیکھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آخری نماز جنازہ کتنے تکبیرات سے ادا فرمائے ہیں، اسی کو اختیار کرنا چاہیے، اس کے سوائے پہلے جو عمل رہا ہے اس کو چھوڑ دینا چاہیے، سب مل کر، بہت غور کرکے تو معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آخری جنازہ پر چار تکبیرات کے ساتھ نماز پڑھائے ہیں۔ (جب یہ معلوم ہوا کہ آخری جنازہ چار تکبیرات کے ساتھ ادا فرمائے ہیں تو سب صحابہ کا اجماع نماز جنازہ میں چار تکبیرات پر ہوا۔) اس حدیث کی روایت امام محمد نے کی ہے اور امام احمد اور امام طحاوی نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔