Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Funerals

Hadith 2134

(اس باب میں جنازہ کے ساتھ کیسے چلنا اور جنازہ پر نماز کس طرح ادا کرنا چاہئے،

In this book

Current reading

Funerals

(اس باب میں جنازہ کے ساتھ کیسے چلنا اور جنازہ پر نماز کس طرح ادا کرنا چاہئے،

Zujajat al-Masabih 2134Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2499
عبدالرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں میں ایک جنازہ کے ساتھ ساتھ چل رہا تھا اور جنازہ کے ساتھ چلنے والوں میں حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور حضرت علی رضی اللہ عنہم بھی تھے، حضرت ابوبکر اور حضرت عمر جنازہ کے آگے پیدل چل رہے تھے اور حضرت علی جنازہ کے پیچھے چل رہے تھے، اور میرا ہاتھ حضرت علی کے ہاتھ میں تھا، حضرت علی مجھ سے فرمائے سنو! عبدالرحمن جنازہ کے پیچھے چلنے والے کی فضیلت جنازہ کے آگے چلنے والے پر ایسی ہے جیسے باجماعت نماز پڑھنے والے کی فضیلت تنہا نماز پڑھنے والے پر ہوتی ہے، یہ دونوں حضرات یعنی ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما بھی جنازہ کے پیچھے چلنے کی فضیلت کو خوب جانتے ہیں جس طرح میں جانتا ہوں، لیکن یہ دونوں حضرات ازدحام کی وجہ سے لوگوں میں سہولت پیدا کرنے کی خاطر (باوجود جنازہ کے پیچھے چلنے کی فضیلت کو جاننے کے پھر بھی جنازہ کے آگے آگے اس لئے چل رہے ہیں تا کہ لوگوں
Commentary and footnotes (3)

Note 1

They know this, etc.

(1) The statement: "They know this, etc." At-Tahawi said: "This Hadith indicates the superiority of walking behind the funeral over walking in front of it. His statement, 'Abu Bakr and Umar know this just as I know it, but they leave it to make it easier for the people,' is not something said based on opinion. It is only said and known based on what the Messenger of Allah (ﷺ) taught them and made them aware of."

Note 1

قوله

(۱) قوله: إنها ليعلمان إلخ : قال الطحاوي: ففي هذا الحديث تفضيل علي الله المشي خلف الجنازة على المشي أمامها، وقوله: «إن أبا بكر وعمر يعلمان مثل ما أعلم، وإنهما إما يتركان ذلك للتسهيل على الناس، لا لأن ذلك أفضل من غيره، وهذا مما لا يقال بالرأي. إنما يقال ويُعلم بما قد وقفهم عليه رسول الله ، وعلمهم إياه من ذلك.

Note 1

کو معلوم ہو جائے کہ جنازہ کے آگے چلنا بھی جائز ہے، اگرچہ کہ جنازہ کے آگے چلنے میں کوئی ایسی فضیلت نہیں ہے، جیسے پیچھے چلنے میں ہے۔) اس حدیث کی روایت طحاوی، عبدالرزاق اور ابن شیبہ نے کی ہے اور اس حدیث کی سند صحیح ہے، آثار السنن میں ایسا ہی کہا ہے اور ابن حجر نے فتح الباری میں بیان کیا ہے کہ اس حدیث کی سند حسن ہے۔