اردو
ابو عبیدہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی
اللہ عنہ فرمائے ہیں کہ جو شخص جنازہ کے ہمراہ چلے اس کو چاہئے کہ جنازہ کے چاروں طرف کندھا
دے، اس لئے کہ جنازہ کے چاروں طرف کندھا دیتے ہوئے چلنا سنت ہے اس کے بعد بھی اگر وہ
چاہے تو اسی طرح (چاروں طرف کندھا دیتے ہوئے) چلے (اور یہ مستحب ہے) اور اگر چاہے تو
(دوسرے کے حوالے کر کے) علحدہ ہو جائے۔
اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے اور اس کی سند مرسل ہے اور جید ہے، اور بیہقی اور طیالسی
نے اس کی روایت ابو عبیدہ سے کی ہے۔
اور ابن ابی شیبہ نے ابو درداء رضی اللہ عنہ سے اس کی روایت اسی طرح کی ہے۔
اور عبدالرزاق کی روایت میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس طرح مروی ہے
کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے کہ جن لوگوں نے جنازہ کے چاروں جانب کندھا دیا، انھوں
نے اپنا فرض ادا کیا۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Ibn Majah 1478 (unverified) 88% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) The statement: "All sides of the bier." What is narrated that he (ﷺ) carried the funeral of Sa'd ibn Mu'adh between two poles is weak in its chain. An-Nawawi said: "There is a confirmed text from the Messenger of Allah (ﷺ) regarding carrying it between two poles." This is mentioned in "Sharh Al-Munyah."
Note 1
(۱) قوله: بجوانب السرير كلها وما روى أنه الله حمل جنازة سعد بن معاذ بين العمودين ضعيف الإسناد. قال النووي: في حملها بين العمودين نص ثابت عن رسول الله ﷺ. قاله في شرح المنية».
Note 1
ف: صدر کی اس حدیث میں اور اس کے بعد آنے والی حدیثوں میں جنازہ کے چاروں طرف کندھا دینے کا ذکر ہے، واضح رہے کہ میت کے چاروں جانب کندھا دینے کی تفصیل اسی باب میں یعنی باب المشى بالجنازة والصلاة عليها کے فائدہ میں گزر چکی ہے۔ ملاحظہ کیا جائے۔12